سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 259

سرّالخلافة — Page 164

سر الخلافة ۱۶۴ اردو ترجمہ وتغير الزمان فلا ورع ولا تقویٰ اور زمانہ بدل گیا۔پرہیز گاری رہی نہ تقوی ، روزہ ولا صوم ولا صلاة۔قدموا الدنيا رہا نہ نماز، اُنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔على الآخرة، وقدموا شهوات اور اُنہوں نے نفسانی خواہشات کو حضرت ربّ النفس على حضرة العزة، وأراهم | العزت پر مقدم کیا۔میں انہیں دنیا طلبی میں نیم پاگل لدنياهم كالمصاب، ولا يبالون کی طرح دیکھ رہا ہوں۔وہ آخرت کی راہوں سے طرق الآخرة ولا يقصدون طریق لا پرواہ ہیں اور درست راہ اُن کا مقصود نہیں۔وفا الصواب۔ذهب الوفاء وفقد جاتی رہی اور حیا مفقود ہو گئی۔وہ نہیں جانتے کہ الحياء، ولا يعلمون ما الاتقاء۔أرى خدا خوفی کیا ہے؟ کچھ چہرے میں ایسے دیکھ رہا وجوها تلمع فيهم أسرّة الغَدر ہوں جن میں غدر کے آثار چمک رہے ہیں۔وہ يحبون الليل الليلاء ويبزقون تاریک و تاررات سے محبت کرتے اور مہ کامل پر على البدر۔يقرأون القرآن، تھوکتے ہیں۔وہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن خدائے ويتركون الرحمان۔لا يرى منهم رحمان کو چھوڑتے ہیں۔اُن کا ہمسایہ اُن سے ظلم جارهم إلا الجور، ولا شریک کے سوا کچھ نہیں دیکھتا اور صرف پستی ہی اُن کی حدبهم إلا الغورو يأكلون الضعفاء رفعت کی شریک ہے۔وہ نا توانوں کو کھاتے اور ويطلبون الگور۔كثر الكاذبون مزید کے طالب رہتے ہیں۔جھوٹوں ، چغل خوروں، والنمامون، والواشون والمغتابون ملمع سازوں، غیبت کر نیوالوں، ظالموں، دھو کے والظالمون المغتالون، والزانون سے قتل کرنیوالوں، زانیوں، فاجروں، شرابیوں، الفاجرون، والشاربون المذنبون گنہ گاروں، خائنوں، غذاروں، دنیا کی طرف والخائنون الغدّارون، والمايلون | جھکنے والوں اور رشوت خوروں کی بہتات ہوگئی المرتشون۔قست القلوب والسجايا ہے۔دل اور طبیعتیں سخت ہو گئیں۔وہ اللہ ނ لا يخافون الله ولا يذكرون المنايا۔نہیں ڈرتے اور نہ موتوں کو یاد رکھتے ہیں۔