سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 259

سرّالخلافة — Page 163

سر الخلافة ۱۶۳ اردو تر جمه يأبـر بعضهم بعضا كالعقارب اُن میں سے ہر ایک بچھوؤں کی طرح نیش زنی ولو كان المظلوم من الأقارب، کرتا ہے خواہ وہ مظلوم قرابت داروں میں وما بقى فيهم صدق الحدیث سے ہی ہو۔اُن میں راست گوئی اور پُر خلوص وإمحـاض المصافات، وبدلوا محبت باقی نہیں رہی۔اُنہوں نے نیکیوں کو الحسنات بالسيئات۔اشتغلوا برائیوں میں بدل دیا اور وہ بھائیوں کی عیب في تطلب مثالب الإخوان ونسوا جوئی میں مشغول ہو گئے۔اور باہمی اصلاح إصلاح ذات البين و حقوق اهل اور اہل ایمان کے حقوق کو ( یکسر ) بھول گئے الإيمان، وصـالوا على الإخوة اور وہ بھائیوں پر ظالموں کے حملہ کرنے کی كصول أهل العدوان أدحضوا طرح حملہ آور ہوئے۔محبتوں کو پامال کیا اور المودات وأزالوا خلوص النيات خلوص نیت کو ضائع کر دیا۔اور فسق اور عداوت وأشاعوا فيهم الفسق والعدوان کو اپنے اندر پھیلایا۔اور لغزشوں اور بہتان واتبعوا العثرات والبهتان۔زالت طرازی کے پیچھے لگ گئے۔محبت کی مہکتی نفحات المحبة كل الزوال، وهبت خوشبوئیں یکسر ختم ہو گئیں اور نفاق اور جنگ رياح النفاق والجدال۔ما بقى سعة وجدال کی ہوائیں چلنے لگیں۔وسعت حوصلگی الصدر وصفاء الجنان و دخلت اور صفائی قلب باقی نہ رہی اور ایمان میں (۵۲) كدورات في الإيمان، وتجاوزوا کدورتیں داخل ہو گئیں۔اور وہ پر ہیز گاری حدود التورع والتقاة ، وتناسوا اور تقویٰ کی تمام حدود کو پھلانگ گئے اور حقوق الإخوان والمؤمنين بھائیوں اور مومن مردوں اور مؤمنات کے والمؤمنات۔لا يتحامون العقوق حقوق بھول گئے۔وہ نافرمانی سے نہیں بچتے ولا يؤدون الحقوق، وأكثرهم اور حقوق ادا نہیں کرتے۔اور اُن میں سے لا يعلمون إلا الفسق والنهات، اكثر فسق اور شور شرابہ کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔