سرّالخلافة — Page 150
سر الخلافة ۱۵۰ اردو تر جمه أخرجه أبو داود الذي كان من اس حدیث کو ابوداؤد نے جو ائمہ محد ثین میں أئمة المحدثين۔فقوله ”منی“ و سے تھے۔درج کیا ہے۔پس حضور کا یہ فرمانا کہ يواطئ اسمه اسمی“ إشارة لطيفة وہ مجھ سے ہوگا اور اُس کا نام میرے نام کے موافق إلى بياننا المذكور، ففكّرُ کطالب ہو گا ( اس میں ) ہمارے مذکورہ بیان کی طرف ایک النور ، إن كنت تريد أن تنكشف لطيف اشارہ ہے۔پس اگر تو چاہتا ہے کہ تجھ پر اس عليك حقيقة السر المستور پوشیدہ بھید کی حقیقت ظاہر ہو تو ایک ٹور کے متلاشی فلا تمر غاض البصر كالظالمین کی طرح غور کر۔اور ظالموں کی طرح آنکھیں بند واعلم أن المراد من مواطأة کر کے نہ گزر۔اور یہ جان لے کہ ان دو ناموں کی الاسميــن مـواطـأة روحانية لا موافقت سے مراد موافقت روحانی ہے نہ کہ فنا جسمانية فانية، فإن لكل رجل اسم ہونے والی جسمانی۔یقیناً حضرت کبریاء کی بارگاہ في حضرة الكبرياء ، ولا يموت میں ہر شخص کا ایک نام ہے اور وہ ( نام ) اُس وقت حتى ينكشف سر اسمه سعيدًا تک نہیں مرتا جب تک کہ اس نام کا یہ راز ظاہر نہ كان أو من الأشقياء والضالین ہو جائے کہ آیا وہ خوش بخت لوگوں میں سے تھا یا وقد يتفق توارُدُ أسماء الظاهر بدبختوں اور گمراہوں میں سے بعض اوقات كما في ” أحمد“ و ”احمد“ ، ظاہری ناموں کے توارد میں بھی اتفاق ہو جاتا ہے ولكن الأمر الذى وجدنا أحق جیسا کہ احمد سے احمد کا۔لیکن جس امر کو ہم نے وأنشد، فهو أن الاتحاد اتحاد زیادہ درست اور زیادہ معروف پایا ہے وہ یہی ہے روحاني في حقيقة الاسمين که در اصل اتحادان دونوں ناموں کی حقیقت میں کمالايخفى على عارف ذی روحانی اتحاد ہے جیسا کہ ایک عارف ، بینا شخص العينين۔وقد كان من هذا القبيل پر یہ امر مخفی نہیں۔اور بالکل اس طرح کی وہ بات مـا الـهـمـت مـن الــرب الجليل ہے جو رب جلیل کی طرف سے مجھے الہام کی گئی