سرّالخلافة — Page 143
سر الخلافة ۱۴۳ اردو ترجمہ والبيان الكاشف لهذه الأسرار، ان اسرار کی حقیقت کو کھولنے والا بیان اور وہ والكلام الكامل الذي هو رافع كامل كلام جو ان سے پردہ اُٹھانے والا ہے یہ الأستار، أن لله عادة قديمة ہے کہ یہ اللہ کی قدیم عادت اور سنت مستمرہ ہے وسُنّة مستمرة أنه قد يُسمّی کہ وہ وفات یافتہ نیک بندوں کو زندہ الموتى الصالحين أحياءً ، ليفهم قرار دیتا ہے تاکہ وہ اس طرح دشمنوں کو به أعداء أو يبشر به أصدقاء ، أو سمجھائے یا راستباز دوستوں کو خوشخبری دے یا یکرم به بعض عباده المتقین اس سے اپنے بعض متقی بندوں کی عزت افزائی كما قال عزّ وجلّ في الشهداء کرے۔جیسا کہ اللہ عز و جل نے شہیدوں لا تحسبوهم أمواتا بل أحياء کے بارہ میں فرمایا کہ تم انہیں مردے نہ سمجھو۔ففى هذا إيماء إلى أن الكافرين بلکہ وہ زندہ ہیں۔پس اس میں یہ اشارہ ہے کہ كانوا يفرحون بقتل المؤمنين كا فرمومنوں کو قتل کر کے خوش ہو رہے تھے اور وكانوا يقولون إنا قتلناهم | یہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے انہیں قتل کیا ہے اور ہم غالب ہیں۔وكذلك كان بعض المسلمين اور اسی طرح بعض مسلمان اپنے بھائیوں، محزونين بموت إخوانهم وخلانهم دوستوں ، باپوں اور بیٹوں کی موت سے وآبائهم وأبنائهم مع أنهم قتلوا غمگين تھے۔اگر چہ یہ سب رب العالمین کی في سبيل ربّ العالمین، فسکت راہ میں قتل کئے گئے تھے۔پس اللہ نے الله الكافرين المخذولين بذکر شہیدوں کی زندگی کا ذکر کر کے نامراد حياة الشهداء ، وبشر المؤمنين کافروں کا منہ بند کر دیا۔اور غمزدہ مومنوں کو المحزونين أن أقاربهم من الأحياء بشارت دی کہ اُن کے رشتہ دار زندہ ہیں۔وأنهم لم يموتوا وليسوا بميتين۔اور یہ کہ وہ مرے نہیں اور نہ وہ مرنے والے ہیں۔وإنا من الغالبين۔