سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 259

سرّالخلافة — Page 144

سر الخلافة ۱۴۴ اردو تر جمه وما ذکر فی کتابہ اور خدا نے اپنی کتاب مبین میں یہ ذکر نہیں کیا کہ (٢٦) المبين أن الحياة حياة روحانی (شہداء کی) یہ زندگی روحانی زندگی ہے اور اہلِ وليس كحياة أهل الأرضين، زمین کی زندگی کی طرح نہیں ہے بلکہ (اللہ نے) بل أكد الحياة المظنون اپنے قول عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ لے کے بقوله عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ذریعہ اُس یقینی زندگی کو زیادہ مؤکد بنا دیا اور و رد على المنكرين۔منکرین کارڈ فر مایا۔فكيف تعجب من قول لم يمت پھر تم اس قول سے کیونکر خوش ہوتے ہو کہ عیسی فوت عيسى، وقد جاء مثل هذا القول نہیں ہوئے حالانکہ اس قسم کا قول تو اُن لوگوں کے لقوم لحقوا بالموتى وماتوا متعلق بھی آیا ہے جو مر دوں سے یقینی طور پر جاملے بالاتفاق، وقتلوا بالإهرياق ہیں اور بالاتفاق مر چکے ہیں اور خون بہانے سے قتل ودفنوا بالیقین۔أما يكفی کئے گئے اور یقینی طور پر دفن کئے گئے۔بلا شک وشبہ لك حياة الشهداء بنص كتاب موت کے وقوع کی صحت کے باوجود حضرت کبریاء کی حضرة الكبرياء مع صحة واقعة كتاب كى نَص سے ثابت شہداء کی زندگی کیا تیرے الموت بغير التمارى والامتراء لئے کافی نہیں؟ پس قرآن کریم کے حضرت عیسی فأي فضل وخصوصية لحياة كو وفات یافتہ قرار دینے کے باوجود حضرت عیسی عيسى مع أن القرآن يسميه کی زندگی کے لئے کون سی فضیلت اور خصوصیت ہے؟ المتوفى، فتدبر فإنك تُسأل پس غور کر! کیونکہ جزا وسزا والے دن تجھ سے ہر عن كل خيانة ونفاق في يوم خيانت اور نفاق کے متعلق پوچھا جائے گا۔اس الدين۔يومئذ يتندّم المبطل على دن ہر باطل پرست اپنے اصرار کرنے اور اس سے ما أصر، وعلى ما أعرض عنه وفرّ، اعراض کرنے اور فرار اختیار کرنے پر نادم ہو گا ، لے وہ اپنے رب کے ہاں رزق دیئے جاتے ہیں۔(ال عمران: ۱۷۰)