سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 259

سرّالخلافة — Page 114

سر الخلافة ۱۱۴ اردو تر جمه فإن المطر النافع لا ينزل إلا كيونكہ نفع بخش بارش صرف اضطرار کے اوقات في أوقات الاضطرار، ويُعرف میں نازل ہوتی ہے اور اس کا وقت حاجت کی وقته عند شدة الحاجة وقرب شدت اور خطروں کے قریب آجانے پر پہچانا الأخطار، فإذا الأرض يبست جاتا ہے۔پس جب زمین خشک اور بنجر ہو جاتی وهمدت، واصفر كل ما أنبتت ہے اور زمین سے اگنے اور نکلنے والی ہر چیز زرد ہو وأخرجت و مست الضراء جاتی ہے اور اس پر بسنے والوں کو تکلیف پہنچتی ٣٦ أهلها والمصائب نزلت ہے اور مصائب نازل اور وارد ہونے لگتے ہیں وسقطت، وظن الناس أنهم اور لوگ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ ہلاک کر أهـلـكـوا، والدواهی قربت دیئے گئے اور مصائب بہت قریب ونزدیک ودنت، وما بقی فی الأضی آگئے ہیں اور جو ہڑوں میں ایک قطرہ باقی نہیں قطرة ماء ، والغدر نتت رہا اور تالابوں کا پانی بد بودار ہو گیا ہے تو ایسے فيغاثون الناسُ في هذا الوقت وقت میں لوگوں کے لئے بارش برسائی جاتی ہے ويُحي الله الأرض بعد موتھا اور اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا وترى البلدة اهتزت وربت ہے اور تو دیکھتا ہے کہ وہ زمین جوش میں آجاتی وترى كل زرع أخرج الشطَاً ہے اور بڑھنے لگتی ہے اور تو دیکھتا ہے ہر کھیتی اپنی تو وكل الأرض اخضرت کو نپلیں نکالتی ہے اور ساری زمین ہری بھری ونضرت وصار الناس بعد اور شاداب ہو جاتی ہے اور بہت سے خطرات الخطرات آمنين۔کے بعد لوگ امن میں آجاتے ہیں۔وهذه عادة مستمرة، وسُنة اور یہ عادت مستمرہ اور سنت قدیمہ ہے قديمة، بل تزيد الشدّة في بعض بلکہ بعض اوقات تو یہ شدت بڑھ جاتی ہے الأوقات وتتجاوز حد المعمولات اور معمولات کی حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔