سرّالخلافة — Page 115
سر الخلافة ۱۱۵ اردو تر جمه وترى بلدة قـد أمـحلت ذات اور تو دیکھتا ہے کہ کوئی بستی کسی سال بنجر ہو جاتی ہے۔العويم، وما بقى من جهام فضلا برسنے والا بادل تو در کنار ابر بے آب تک باقی نہیں عن الغيم، وما بقى بلالة من الماء رہتا۔اور پانی کی نمی تک نہیں رہتی اور سردیوں کے ولا غلالة من ذخائر الشتاء، وما پانی کے ذخیروں میں سے تھوڑی سی مقدار بھی نہیں نزلت قطرة من قطر مع طول آمد بچتی اور لمبی مدت انتظار کے باوجود بارش کا ایک الانتظار، ولاحت آثار قهر القهار ، قطرہ بھی نازل نہیں ہوتا اور قھار خدا کے قہر کے وأحال الخوف صُورَ الناس، آثار نمودار ہونے لگتے ہیں اور خوف لوگوں کی وغــلـب الـخـيـب وظهر طيران شکلوں کو تبدیل کر دیتا ہے اور مایوسی غالب آجاتی الحواس، وصار الريف كأرض ہے اور حواس باختگی ظاہر ہو جاتی ہے۔سرسبز و ليس فيها غير الهباء والغبار، وما شاداب وادیاں ایسی زمین کی طرح ہو جاتی ہیں بقى ورق من الأشجار ، فضلا جہاں گرد و غبار کے سوا کچھ نہ ہو پھل تو کجا درختوں عن الأثمار، فيضطر الناس أشد کے پتے تک باقی نہیں رہتے۔نتیجتا لوگ سخت بیقرار الاضطرار، وكادوا أن يهلكوا ہو جاتے ہیں۔اور ناامیدی اور تباہی کے آثار کی من آثار اليأس والتبار؛ فتتوجه وجہ سے وہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔تب إليهم العناية، ويدركهم رحم اللہ کی عنایت ان کی طرف توجہ کرتی ہے اور اللہ کا الله وتظهر الآية، وتنضر رحم انہیں حاصل ہو جاتا ہے۔اور ایک نشان ظاہر أرضهم من الأمطار، ووجوههم ہوتا ہے اور ان کی زمین بارشوں کی وجہ سے اور ان من كثرة الثمار ، فيصبحون کے چہرے پھلوں کی کثرت کے باعث تر و تازہ ہو بفضل الله مخصبين۔ذلك مثل جاتے ہیں۔پھر وہ اللہ کے فضل سے آسودہ ہو الذين أتت عليهم أيام الضلال جاتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی مثال ہے جن پر گمراہی وحلت بهم أسباب مضلة کا زمانہ آیا اور ان پر گمراہ گن اسباب وارد ہوئے