سلسلہ احمدیہ — Page 777
777 آپ اپنے بچوں کو کس طرح سنائیں گے۔جو نہیں آسکے ان تک پہنچانے کا انتظام اگر یہ ان خطبات کے علاوہ عموما بھی جماعت ایسا انتظام کرے اور اس توجہ کے ساتھ یہ انتظام کرے تو اس سے بالعموم ساری دنیا کی جماعت کو بہت سے فوائد پہنچیں گے۔“ آپ نے مزید فرمایا : 66 ”خطبات ایک ایسا ذریعہ ہے جن کے ذریعے ساری دنیا میں خواہ کسی ملک سے تعلق رکھنے والی جماعتیں ہوں ان میں بیجھتی اور یکسوئی پیدا ہو سکتی ہے۔جماعت احمدیہ کے مقاصد میں ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو عالمی بنایا جائے ، تمام عالم کے دوسرے مذاہب پر اس کو غالب کیا جائے اور ایک اسلامی مزاج ساری دنیا میں پیدا کیا جائے۔اس ایک مزاج کو پیدا کرنے کے لئے خلافت سے ساری جماعتوں کی وابستگی سب سے بڑا ذریعہ ہے جو دنیا میں کہ ں کسی اور مذہبی جماعت کو اس طرح حاصل نہیں اور پھر ہر ہفتے ایک ہی قسم کے مزاج کو دنیا میں پیدا کرنے کی خاطر ایک ہی خطبہ کو ہر جگہ پھیلانا اور ایسے خطبے کو پھیلانا جس کا سننے والا یہ سمجھتا ہو کہ میرا اس بیان کرنے والے سے ایک ایسا گہرا روحانی تعلق ہے کہ جو باتیں بھی کہی جارہی ہیں میں عہد کر چکا ہوں کہ میں انہیں توجہ سے سنوں گا اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔یہ بات بھی دنیا میں کسی اور مذہبی نظام کو حاصل نہیں۔اس لئے اگر اس دنیا کی وحدت کسی جماعت سے وابستہ ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہی ہے لیکن جماعت احمدیہ کو خدا تعالٰی نے جو نظام مہیا فرما دیا ہے، جو انتظامات مکمل کر دئیے ہیں اگر خود یہ جماعت اس سے استفادہ نہ کرے تو پھر دنیا کی وحدت تو در کنار اپنی وحدت کو بھی برقرار نہیں رکھ سکے گی اور میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ بسا اوقات اس کمی کی وجہ سے مختلف جماعتوں کے مزاج مختلف ہونے لگتے ہیں۔جہاں باقاعدگی سے خطبات پہنچانے کا انتظام نہیں وہاں کئی قسم کے ایسے خیالات کئی قسم کے ایسے تو ہمات دلوں میں پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کا ساتھ ساتھ علاج نہیں ہو رہا ہوتا اور وہاں مختلف مزاج میں جماعتیں پرورش پارہی ہوتی ہیں، دنیا کی دوسری جماعتوں سے فرق کے ساتھ ان کی تربیت ہورہی ہوتی ہے۔اس لئے بالعموم ابھی یہ بہت ضروری ہے اور خصوصا ایسی جگہ جیسے لاس اینجلس ہے،