سلسلہ احمدیہ — Page 778
778 بہت پھیلی ہوئی جماعتیں ہیں، گھروں کے درمیان فاصلے بہت ہیں، شہر بہت بڑا ہے، بداثرات بہت زیادہ ہیں اور ایک مسجد اگر بنا بھی دی جائے تو تب بھی اس مسجد تک سب کی رسائی عملا ممکن نہیں ہے۔تو ایسی جماعتوں میں تو خصوصیت کے ساتھ یہ انتظام ضروری ہے کہ مرکز سے ان کا رابطہ مکمل رہے اور ہر بڑے چھوٹے تک خلیفہ وقت کی آواز میں وہ باتیں پہنچیں جن پر عمل کرنا وقت کے تقاضوں کے لحاظ سے خصوصیت سے بہت ضروری ہے۔" ( خطبہ جمعہ فرموده 23 را کتوبر 1987 خطبات طاہر جلد طاہر 6 صفحہ 685684) خلیفہ وقت کی آواز میں اُس کے پیغام کو افراد جماعت تک پہنچانا کیوں اہم ہے؟ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا: عہدیداران جماعت کے ساتھ جماعت بڑے احترام کا تعلق رکھتی ہے اور بعض صورتوں میں امراء سے بڑی محبت بھی کرتی ہے۔لیکن یہ خیال کر لینا کہ خلیفہ وقت اور جماعت کے درمیان جو محبت کا تعلق ہے بعینہ وہی چیز ہر عہدیدار اور جماعت کے درمیان ہے، یہ غلط ہے۔اکثر صورتوں میں تو یہ عش عشیر بھی نہیں ہے۔یہ ایک ایسا نظام ہے دنیا میں جس کی کوئی مثال ہی نہیں ہے۔کوئی دنیا میں مذہبی ہو یا غیر مذہبی لیڈر ایسا نہیں جیسا کہ خلیفہ صبح ، جماعت احمدیہ کے اندر جو خلیفہ ہے وہ اور اس کے متبعین کے ساتھ یا اس جماعت کے ساتھ جس نے اس کو قبول کیا خلیفہ کے طور پر ان کے درمیان جو تعلق ہے۔تعلق بے مثال ہے۔اس کی کوئی نظیر دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔۔۔" خطبہ جمعہ فرموده 11 / مارچ 1988ء - خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 169) چنانچہ جماعت احمدیہ کے ہر شخص تک ہر تحریک خلیفہ وقت کی آواز میں پہنچانے کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: یعنی آواز سے مراد یہ ہے کہ جس طرح وہ پہنچانا چاہتا ہے۔سننے والا خواہ ترجمہ بھی سن رہا ہو اس کو پتہ ہو کہ یہی باتیں تھیں جو خلیفہ وقت نے جماعت کے سامنے پیش کی تھیں۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 11 مارچ 1988ء خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 170) پہلے تو صرف آڈیو کیسٹس کے ذریعہ خلیفہ وقت کے خطبات و خطابات تمام دنیا کے احمدیوں تک