سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 776 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 776

776 کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: م اس کوشش کی وجہ یہ تھی کہ میرا تجربہ ہے کہ خلیفہ وقت کی طرف سے جو بات کوئی دوسرا پہنچاتا ہے اس کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا براہ راست خلیفہ وقت سے کوئی بات سنی جائے۔میرا اپنا زندگی کا لمبا عرصہ دوسرے خلفاء کے تابع ان کی ہدایات کے مطابق چلنے کی کوشش میں صرف ہوا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پیغام پہنچائے فلاں خطبہ میں خلیفہ نے یہ بات کی تھی اور خطبہ میں خود حاضر ہو کر وہ بات سننا ان دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔66 ( خطبہ جمعہ 8 جنوری 1993ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 20) حضور رحمہ اللہ نے لاس اینجلس (امریکہ) میں اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 23 / اکتوبر 1987ء میں فرمایا: اگر چہ کیسٹ کا نظام اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ دو تین سالوں میں کافی مضبوط ہو چکا ہے اور تقویت پاچکا ہے لیکن جب بھی میں نے تفصیلی جائزہ لیا ہے تو بہت سے خلا ضرور دکھائی دیتے ہیں اور یہ کہنا درست نہیں کہ کسی ملک کی ہر جماعت میں باقاعدگی سے کیسٹس پہنچ رہے ہیں اور اس جماعت کے ہر فرد تک ان کی رسائی ہے یا ہر فرد کو ان تک رسائی ہے۔یہ نظام بھی ابھی نامکمل ہے کہ سنائی کیسے جائے۔اگر اکٹھا جماعت کو کیش سنانے کا انتظام نہ ہو جس میں خطبات ہوں یا خصوصی پیغامات ہوں تو بسا اوقات بہت سے خاندان ایسے رہ جاتے ہیں جو اپنے طور پر تو سن ہی نہیں سکتے۔علاوہ ازیں بھی اگر جمعہ پر بھی یہ انتظام کیا جائے تو آپ جانتے ہیں کہ جن ملکوں میں آپ بس رہے ہیں یہاں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو جمعہ پر حاضر ہی نہیں ہو سکتی اور کچھ جو جمعہ پر آتے ہیں مرد یا خواتین ان کے بچے ضروری نہیں کہ ساتھ آسکیں۔اس لئے خلا کے احتمالات زیادہ ہیں یہ نسبت اس کے کہ یہ یقین کیا جائے کہ سب تک پیغام پہنچ رہے ہیں۔اس لئے ایسے اہم مضامین جن کا جماعت کی تربیت کے ساتھ یا ان کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق ہو ان کو زیادہ احتیاط کے ساتھ زیادہ محنت کے ساتھ احباب جماعت تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے جہاں اجتماعی انتظامات ہیں ان میں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کتنے دوست تشریف لا سکے۔جو تشریف لائے ان سے مل کے یہ طے کرنا چاہئے کہ