سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 774 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 774

774 کلیہ ناکام و نامراد فرمایا اور اپنی قائم کردہ خلافت کے ساتھ کئے گئے وعدہ وَلَيُبَدِّلَنَّ لَهُمْ دينهم " کو بڑی شان سے پورا فرمایا۔1934ء میں احرار نے قادیان پر ہلہ بولا اور اس دعوی کے ساتھ حملہ آور ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز کو گویا قادیان میں دفن کر دیا جائے گا لیکن وہ خدا جس نے فرمایا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا اس نے اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے ذریعہ تحریک جدید جیسی نہایت مبارک سکیم کا آغاز فرمایا اور مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ دیکھتے ہی دیکھتے اس الہی سکیم کے تحت ہندوستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ایسی ہی ایک نہایت مکروہ اور ناپاک اور نہایت ظالمانہ کوشش 50 سال کے بعد 1984ء میں پاکستان میں اُس وقت کے فوجی آمر نے اپنی تمام تر فوجی اور سیاسی طاقت کے بل بوتے پر احمدیت کے خلاف آرڈیننس 20 کو جاری کر کے کی۔اس کا خیال تھا کہ اس آرڈینس کی خلاف ورزی پر وہ خلافت پر ہاتھ ڈال کر اسے جماعت سے الگ کر دے گا۔اس کے نتیجہ میں جماعت اور خلافت کا رابطہ منقطع ہو جائے گا اور جماعت احمدیہ کی مرکزیت یعنی خلافت ختم ہو جائے گی اور یوں یہ جماعت دیکھتے ہی دیکھتے پارہ پارہ ہو جائے گی۔اس نے کھلم کھلا اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ ( بقول اُس کے) احمدیت کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے منصوبوں کو اپنی قدرت کاملہ سے اس طرح پارہ پارہ کیا کہ خود اس فوجی آمر کا وجود بھی عبرت کا ایک نشان بنا اور وہ اور اس کا مکر وفریب جل کر خاکستر ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے خلافت کی حفاظت فرمائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع بخیر و عافیت ہجرت کر کے انگلستان تشریف لے آئے۔اس وقت جماعت کے مخالف مولویوں نے خوشی کے شادیانے بجائے اور تمسخر اور استہزاء سے کام لیتے ہوئے اخبارات میں مرزا طاہر احمد کے۔فرار ہونے کی شہ سرخیاں لگائیں اور یہ سمجھا کہ پاکستان کے احمدی حکومتی مشینری اور حکومت کی سر پرستی میں مخالفین احمدیت مولویوں کی طرف سے ہونے والے مظالم سے تنگ آکر ارتداد اختیار کر لیں گے لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔