سلسلہ احمدیہ — Page 53
53 اندر گئے۔اس وقت اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر یا اس اعلیٰ مقصد کے لئے کہ کسی قیمت پر بھی وہ مسجد احمدیہ سے کلمہ شہادۃ کو نہیں ملنے دیں گے، اسی نوجوان نے دو فائر کئے اور اس کے نتیجے میں دو حملہ آور وہیں زخمی ہو کر گر گئے اور وہیں انہوں نے جان دے دی اور باقی بھاگ گئے۔بعد ازاں پولیس نے جو ملزم گرفتار کئے جن پر الزام بتایا گیا وہ سات تھے لیکن مقدمہ گیارہ کے خلاف درج کیا گیا۔عملاً فائر کرنے والا صرف ایک نوجوان تھا اور باقی تین کی طرف سے حملہ آوروں کو کسی قسم کی کوئی گزند نہیں پہنچی۔اس کے علاوہ جن افراد کو مقدمہ میں نامزد کیا گیا ان میں سے بعض موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔یوں خلاف واقعہ جھوٹے طور پر معصوم احمدیوں کو بھی اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔ان میں سے ایک جماعت کے مربی سلسلہ محمد الیاس منیر صاحب تھے جو مسجد سے ملحقہ اپنے گھر میں تھے۔ان کو جب بندوق کے چلنے کی آواز آئی تو وہ نیچے آئے اس وقت ان کو پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ساہیوال میں موجود نہیں تھے۔مگر ان علماء نے جانتے ہوئے کہ سارا جھوٹ ہے نہ صرف یہ کہ ان لوگوں کا نام پرچے میں درج کروایا جن کا کوئی ڈور کا بھی تعلق نہیں تھا بلکہ سراسر الف سے ہی تک پوری کی پوری جھوٹی کہانی بنائی۔چونکہ دو احمدی جن کے خلاف الزام تھا کہ انہوں نے قتل میں حصہ لیا ہے وہ وکیل تھے اور بار کونسل کے ممبر اور ہر دلعزیز ممبر تھے۔اس لئے ان مولویوں کے جھوٹ سے پردہ فاش کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا کہ بار کونسل نے ایک بڑا شدید Resolution پاس کیا اور اس بات کی گواہی دی کہ یہ دو احمدی جو ہماری کونسل کے ممبر ہیں ان کے متعلق تو ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ ان کا ڈور کا بھی اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔اس لئے ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا نام خارج کیا جائے۔اُس علاقے میں یہ جھوٹ اتنا مشہور ہوا کہ بہت سے چوٹی کے شریف وکلاء جو Criminal Cases کے ماہرین تھے انہوں نے علماء کے مقدمہ کی پیروی سے کلیہ انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اتنا جھوٹا مقدمہ، ایسا ظالمانہ الزام کہ معصوم لوگ جن کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ان کو تم شامل کر رہے ہو اور پھر ساری کہانیاں الف سے ہی تک جھوٹی ہیں۔کلمہ مٹانے جارہے ہو اور بیان بیہ دے رہے ہو کہ ہم یہ سننے گئے تھے کہ مسجد میں اذان تو نہیں ہورہی اور یہ سننے کے لئے اس وقت گئے تھے جبکہ نمازیں بھی ختم ہو چکی تھیں اور