سلسلہ احمدیہ — Page 52
52 کرتے ہیں۔“ ایک مقدمہ اس بنا پر پر قائم کیا گیا کہ مجلس اطفال الاحمدیہ کی آل ربوہ صنعتی نمائش منعقدہ ایوان محمود ربوه بروز یکم، دو، تین اکتوبر 1990ء کے لئے جاری کردہ داخلہ ٹکٹ پر مسلم، کلمہ طیبہ اور قرآن کریم کی آیت لکھ کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے۔چنانچہ اس کی درخواست پر منتظمین نمائش پر زیر دفعہ C/298 تھانہ ربوہ میں مقدمہ درج کیا گیا۔جن احمدیوں پر مقدمات بنائے گئے ان میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، بڑی عمر کے ضعیف اور معمر افراد بھی تھے اور نو جوان اور بچے بھی۔مئی 1992ء میں نکانہ صاحب کے ایک احمدی ناصر احمد صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی کے لئے جو دعوتی کارڈ شائع کیا اس پر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ إِنْشَاء الله اور نکاح مسنونہ کے الفاظ درج تھے۔اس پر ان کے اور جن دیگر بارہ احمدیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ان میں ایک شاہ رخ سکندر صرف نو (9) ماہ کا بچہ تھا۔مقدمه ساہیوال 26 اکتوبر 1984ء کو ساہیوال کی احمدیہ مسجد میں صبح نماز کے بعد بعض مولویوں نے اور ان کے مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء نے مل کر ہلہ بول دیا اور اپنے ساتھ وہ برش اور پینٹ وغیرہ لے کر آئے تا کہ مسجد سے جہاں جہاں کلمہ شہادۃ لکھا ہوا ہے اُس کو مٹادیں۔چنانچہ باہر کی دیواروں پر اور باہر کے دروازے پر تو وہ مٹانے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب مسجد کا جو اندر کا دروازہ ہے اس پر سے کلمہ مٹانے لگے تو چند نوجوانوں نے جو وہاں اس وقت موجود تھے مزاحمت کی اور یہ کہا کہ کسی قیمت پر بھی خواہ ہماری جان جائے ہم تمہیں اپنی مسجد سے کلمہ شہادۃ نہیں مٹانے دیں گے۔چونکہ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی ایک نوجوان کو تو انہوں نے وہیں پکڑ لیا اور باقیوں کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے مسجد پر حملہ کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔اس وقت وہاں ایک احمدی نوجوان نے بندوق سے دو فضائی فائر کئے تا کہ حملہ آور ڈر کے بھاگ جائیں اور ڈر کر کچھ دیر کے لئے وہ بھاگ کر باہر نکل گئے لیکن پھر وہ دوبارہ ہلہ بول کے