سلسلہ احمدیہ — Page 54
54 نمازی اپنے اپنے گھروں کو بھی جاچکے تھے۔اور یہ کہنا کہ ہم اندر گئے بھی نہیں۔ہم تو صرف کھڑے سن رہے تھے، اس پر فلاں فلاں شخص نے اس طرح فائرنگ کی اور اس طرح حملہ کر کے ہمیں قتل کیا اور پھر گھسیٹ کر اندر لے گئے۔تو ایک طرف علماء دین کی یہ جرات اور بے با کی تھی کہ خدا اورمحمد مصطفی علیم کے نام کی قسمیں کھا کر اور قرآن اٹھا اُٹھا کر کلیۂ بے بنیا واقعات کی شہادت دے رہے تھے اور دوسری طرف وہ جن کو دنیا دار کہا جاتا ہے یعنی عام وکلاء اپنی روزی کمانے والے جن کا ظاہری طور پر دین سے تعو سے تعلق نہیں ہے، وہ حیا محسوس کر رہے تھے کہ اس مقدمے میں فیس لے کر بھی کسی طرح ملوث ہو جائیں۔وہ سات افراد جن کو گرفتار کیا گیا تھا ان کو طرح طرح کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک لمبا عرصہ تک بہت شدید تکلیفیں پہنچائی گئیں لیکن اللہ کے فضل سے وہ لوگ ثابت قدم رہے۔اس مقدمے کا جو فیصلہ سنایا گیا اس کی رُو سے دو احمد یوں رانا نعیم الدین صاحب اور محمد الیاس منیر صاحب کو موت کی سزا سنائی گئی اور باقی کو عمر قید پچیس پچیس سال قید با مشقت۔یہ مقدمہ تو شروع سے آخر تک جھوٹ ہی جھوٹ تھا، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس فیصلے کی توثیق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق نے خود کی اور اخباروں میں فخر کے ساتھ اس بات کا اعلان کروایا کہ وہ اس قتل کے ذمہ دار احمدیوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ وہ پہلو ہے جو اس لحاظ سے تعجب انگیز ہے کہ دنیا بھر میں مقدمات ہوتے ہیں، قتل ہو جاتے ہیں۔واقعہ بچے مقدمات میں سزائیں ملتی ہیں مگر ملکوں کے صدر کبھی اپنے نام کو ان باتوں میں ملوث نہیں کیا کرتے۔عدلیہ کی کارروائی ہوتی ہے بچی ہو یا جھوٹی ہو لیکن ایک ملک کا صدر فخر سے یہ اعلان کرے کہ یہ جو قتل ہونے والے ہیں اس کا فیصلہ میں نے کیا ہے۔یہ بات نہ صرف عموماً تعجب انگیز ہے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ فیصلہ کرنے والے کی دہریت سے پردہ اٹھاتی ہے۔دنیا کے نام پر مظالم کرنے والے بعض دفعہ خدا کے قائل بھی ہوتے ہیں تو غفلت کی حالت میں ظلم کر جایا کرتے ہیں۔مگر ایک شخص جو خدا کے نام پر ظلم کر رہا ہو اور معصوم انسان کے متعلق مقتل کا فیصلہ کر رہا ہو۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کو خدا پر ایمان ہو یا اس بات پر یقین ہو کہ وہ قیامت کے دن جوابدہ ہوگا۔