سلسلہ احمدیہ — Page 717
717 جو بہت سے تو نہیں مگر بعض افریقی ممالک میں نہ صرف خطرہ ہے بلکہ واقعہ لاحق ہو چکا ہے، رونما ہو چکا ہے اور بہت سے افریقی ممالک کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔پس ایسی قوموں کے وہ نمائندگان جو غیر اور امیر قوموں سے اقتصادی یا تعلیمی یا معاشرتی یا فوجی معاہدے کرتے ہیں وہ اپنی بددیانتی کی وجہ سے مجبور ہو جاتے ہیں کہ قوم کے مفادات کو بیچیں اور ایسے معاہدے کریں جو ہمیشہ قوم کے مفاد کے خلاف پڑتے ہوں۔چنانچہ اس طریقہ سے غیر قوموں کی غلامی کے چنگل میں دن بدن قوم زیادہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے، زیادہ مجبور اور محبوس ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ وہ خطرہ ہے جو پھر آگے خطروں کو جنم دیتا ہے۔ملک کے اندر مظلوم لوگ دن بدن اپنے رہنماؤں سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور ان کی نفرت کے اظہار کے لیے اگر ان کے پاس خود کوئی ذریعہ موجود نہ ہو تو پھر غیر قوموں سے مدد مانگتے ہیں۔غیر قوموں کے نظریات سے مدد مانگتے ہیں۔۔۔دوسری قومیں اپنے اپنے رنگ میں ملکوں میں داخل ہونے کے لیے تیاری کیسے بیٹھی ہوتی ہیں۔چنانچہ ہر طرف سے غیر قوموں کو نفوذ کے نئے نئے رستے مہیا ہو جاتے ہیں اور سارے ملک کا امن درہم برہم اور تباہ ہو جاتا ہے۔“ آپ نے فرمایا:۔۔۔۔اس تفصیل میں گئے بغیر کہ اور کیا کیا خطرات اس سے پیدا ہوتے ہیں اور جو بہت زیادہ ہیں۔یعنی جو میں نے بیان کیے ہیں اس سے بہت زیادہ اور بھی ہیں۔میں مختصر احتمام افریقہ کی احمدی جماعتوں کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ ملک کو پیش آمدہ مستقبل کے خطرات سے بچانے کے لیے اپنے ملک کی محبت میں اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی خاطر وہ کثرت سے لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کریں اور ان کے دماغوں کو روشن کرنا شروع کریں اور اپنی سیاسی قیادت سے مل کر ان کو یہ باتیں سمجھائیں اور پیار اور محبت سے تلقین کریں کہ بجائے اس کے کہ عوام الناس کی طرف سے تحریکیں اٹھیں، وہ خود سادگی کی تحریکیں حکومت کے بالا شعبوں سے شروع کریں، حکومت کے بالا خانوں سے شروع کریں اور بار بار عوام کو یقین دلائیں کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ قوم کا انحصار غیر قوموں پر دن بدن کم ہوتا چلا جائے اور قوم خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی اہل ہو جائے۔