سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 718 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 718

718 تمام دنیا کے احمدیوں سے میں یہ اپیل کرتا ہوں کہ ان میں جتنے بھی Industrialists ہیں یا صند کاری کے واقف ہیں یا ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں کسی رنگ میں یا اور ایسے علوم پر دسترس رکھتے ہیں جو غریب ملکوں کے اقتصادی حالات کو بہتر بنانے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں وہ اپنے نام مجھے بھجوائیں اور کہیں کہ کیا وہ اپنے خرچ پر افریقہ کے دورے کے لیے اور جائزہ لینے کے لیے آنے پر تیار ہیں۔یا صرف اپنا وقت دے سکیں گے۔جماعت احمدیہ ان کے خروج مہیا کرے گی۔اور وضاحت کریں کہ کس کس علم کے وہ ماہر ہیں۔کونسی انڈسٹری کا تجربہ رکھتے ہیں۔ان کے بعد جب میں ان کو یہاں بھیجو اؤں گا تو ان کا یہ کام نہیں ہوگا کہ اپنا سرمایہ لگائیں کیونکہ افریقہ پہلے ہی باہر کی سرمایہ کاری سے تنگ آیا بیٹھا ہے اور بہت سے لوگوں نے مدد کے بہانے ان کو لوٹا ہے۔میں یہ پسند کروں گا کہ وہ اپنا Know how، اپنی علمی قابلیت قوم کی خدمت میں پیش کریں اور یہ بات پیش کریں کہ ہم آپ کے لیے صنعتیں لگوانے میں مدد دیں گے۔صنعتیں آپ کی ہوں گی، فائدے آپ کے ہوں گے، ہم صرف خدمت کر کے اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے۔“ خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 8175) آپ نے 12 فروری 1988ء کو خطبہ جمعہ فرمودہ بمقام سالٹ پانڈ (غانا) میں فرمایا: "میں نے افریقہ کے جن ممالک کا دورہ کیا انہیں بہت ہی بد حال پایا اور اس لحاظ سے انتہائی درد محسوس کرتا رہا اور انتہائی کسک محسوس کرتا رہا۔ان کے بڑوں سے بھی اور ان کے چھوٹوں سے بھی میں نے گفتگو کی اور میں نے محسوس کیا کہ وہ خود جانتے ہیں کہ آج بھی مہذب اور عظیم الشان قومیں امداد کے بہانے اور قرضوں کے بہانے ان کو جن زمجیروں میں جکڑتی چلی جارہی ہیں ان کی آزادی سے سر دست افریقہ کو کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔آج افریقہ اپنی سڑکوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنے پلوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنے کپڑوں تک کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنے جوتوں کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنی ٹوتھ پیسٹ کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنی آئس کریم کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے، اپنی کو کا کولا کے لئے غیر قوموں کا محتاج ہے۔کونسی زندگی کی وہ ضرورت ہے مجھے بتائیے جس میں