سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 603 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 603

603 اسی طرح جلسہ سالانہ برطانیہ 1998ء کے موقع پر دوسرے روز بعد دوپہر کے خطاب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جہاں تک ہو میو پیتھک طریقہ علاج کا تعلق ہے اگر چہ یہ طریقہ مشکل ضرور ہے لیکن ایک لمبے عرصے سے میں ایم ٹی اے کے ذریعہ مسلسل لیکچر دے رہا ہوں جو تمام دنیا میں پھیل رہے ہیں اور ان لیکچرز میں اگر چہ شروع میں بہت دقت تھی کیونکہ جن کو میں مخاطب تھا ان کو اس مضمون کی الف ب بھی نہیں آتی تھی لیکن بہت محنت کرنی پڑی۔سردردی دور کرنے کے لئے سر دردی اختیار کرنی پڑی۔بہر حال اللہ نے فضل فرمایا اور رفتہ رفتہ لوگوں کو سمجھ آنی شروع ہوئی اور یہ طریقہ عام ہونا شروع ہوا۔بالآخر وہ وقت پہنچا جبکہ بکثرت لوگوں کی توجہ اس طریقہ علاج کی طرف ہوئی کیونکہ اس میں ایک خاص بات یہ ہے جو ایلو پیتھک طریقہ علاج میں ممکن نہیں ہے کہ نہایت کم خرچ پر علاج ہو سکتا ہے اور جہاں تک ہو میو پیتھی کا اور جماعت کا تعلق ہے جماعت احمد یہ ایسا علاج تجویز کر رہی ہے جس کے اخراجات خود جماعت احمد یہ برداشت کر رہی ہے۔گویا کہ بکثرت ایسی ڈسپنسریاں قائم ہو رہی ہیں کہ ان کو اپنے پہلے سے ایک پیسہ بھی خرچ کرنے کی ضرورت نہیں، ہم طریقہ علاج بھی سمجھاتے ہیں اور مفت دوائیں بھی مہیا کرتے ہیں۔یہ ایک بہت اہم کام ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بکثرت پھیل رہا ہے۔اس ضمن میں سب سے پہلے مرکز میں ہمیں ایک مرکزی شعبہ اس کام کے لئے قائم کرنا پڑا جوڈاکٹر عبدالحفیظ صاحب بھٹی اور ان کی بیگم شیریں بیگم اور ان کے بچوں کے سپرد ہے۔۔۔۔اس کثرت سے شفاخانوں کو اور احمد یہ گھرانوں کو مفت علاج کی سہولت مہیا کر دی گئی ہے کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب سے دنیا بنی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔تمام عالم کی طبی ضروریات پورا کرنے کے لئے کوئی مفت جاری ہونے والا نظام کسی کے علم میں ہو تو بتائے۔پس یہ بھی اللہ تعالی کے عظیم فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔اس نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اس ہدایت کے اس شعبہ پر بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی کہ الْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْأَدْيَانِ وَعِلْمُ الْأَبْدَانِ اسی ضمن میں حضور رحمہ اللہ نے خاص طور پر انڈونیشیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: انڈونیشیا میں اللہ تعالی کے فضل سے عبد القیوم صاحب جو انڈونیشیا جماعت کے ایک