سلسلہ احمدیہ — Page 604
604 بہت ہی اہم اور مخلص ممبر ہیں۔ان کی ذاتی کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہومیو پیتھک وہاں نافذ ہو چکی ہے۔عبد القیوم صاحب نے سب سے پہلے تو خود مجھ سے یہ طریقہ علاج سمجھا اور بہت قابل آدمی ہیں، بہت اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔جب ان کو یقین ہو گیا اور خود ہماری ڈسپنسری میں جا کر وہ مثالیں بھی دیکھیں کہ کس طرح خدا تعالی شفا عطا فرماتا ہے تو پھر انہوں نے کہا کہ اب مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے انڈونیشیا میں پھیلاؤں۔چنانچہ اس وقت تک وہ اور ان کا خاندان اور بہت سی لجنات جو ان سے تعاون کر رہی ہیں ان کی کوششوں سے 93ڈسپنسریاں انڈونیشیا میں قائم ہو چکی ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کا بہت تیزی سے ان کی طرف رحجان بڑھ رہا ہے۔لیکن علاوہ ازیں جیسا کہ میں نے کہا تھا ئیں تو اس وقت راضی ہوں گا جب ہر احمدی گھر شفاخانہ بن جائے گا۔لوگ اپنا بھی علاج کریں گے، اپنے بچوں کا بھی علاج کریں گے، ہمسایوں کا بھی علاج کریں گے اور ان کو بھی یہ طریقہ علاج سمجھائیں گے تاکہ احمدیت کا فیضی دنیا میں پھیلتا چلا جائے۔(خطاب فرموده بر موقع جلسہ سالانہ کیو کے 1998ء۔دوسرے روز بعد دوپہر ) حضور رحمہ اللہ کے ہو میو پیتھی سے متعلق ایم ٹی اے پر لیکچرز کے متعلق یہ ڈیمانڈ تھی کہ انہیں با قاعدہ کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔چنانچہ انہیں کتابی صورت میں ڈھالا گیا اور 1996ء میں یہ کتاب ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل" کے نام سے شائع ہوئی لیکن چونکہ یہ کتاب جلدی میں شائع کی گئی تھی اس میں بعض اغلاط راہ پاگئیں۔چنانچہ جلد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن ریویژن کے بعد شائع ہوا۔اس کا انگریزی اور عربی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔جلسہ سالانہ کیو کے 1999ء کے موقع پر دوسرے روز بعد دوپہر کے خطاب میں حضور رحمہ اللہ نے ہومیو پیتھک کے ذریعہ خدمت خلق کے حوالہ سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: اللہ تعالی کے فضل سے ہو میو پیتھک طریقہ علاج کو بکثرت فروغ ہو رہا ہے اور کثیر تعداد میں مفت خدمت کرنے والے شفا خانے قائم کئے جارہے ہیں۔37 ممالک سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایسے 406 چھوٹے بڑے شفا خانے قائم ہو چکے ہیں۔اس سال ایک محتاط اندازے کے مطابق 1,61,355 افراد کا مفت علاج کیا گیا ہے۔ان مریضوں میں