سلسلہ احمدیہ — Page 487
487 " جشن تشکر کے سلسلہ میں میں آپ کو یہ بات بتاتا ہوں کہ دنیا بھر میں جماعتوں نے بار بار مجھے پر یہ زور ڈالا اور اصرار کیا کہ بظاہر ہمارا کوئی رسوخ اتنا نہیں کہ یہاں کے ٹیلی ویژن، یہاں کے ریڈیو سٹیشن، یہاں کے اخبارات جشن تشکر میں ہماری خبروں کو شائع کریں اور نمایاں طور پر اپنے ملکوں میں پیش کریں۔اس لیے آپ ہماری بات مان جائیں اور ہمیں کچھ روپیہ اشتہاروں پر خرچ کرنے دیں اور کچھ روپیہ ان ایجنسیوں کو دینے دیں جو ان کاموں میں ماہر سبھی جاتی ہیں۔چنانچہ انگلستان والوں نے بھی اور باہر کی بعض دوسری بڑی بڑی جماعتوں نے، مغرب کی جماعتوں نے خصوصیت سے بہت اصرار کیا اور ہندوستان نے بھی بہت اصرار کیا کہ بعد میں یہ نہ کہنا کہ خبریں شائع نہیں ہوئیں۔آپ کچھ دل کھولیں، کچھ پیسہ دیں، ہم اشتہار پر لگائیں۔کچھ ان کمپنیوں کو دیں، یہ ماہر کمپنیاں ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ میں جھوٹے پراپیگنڈے کا قائل نہیں ہوں۔جماعت احمدیہ کا پراپیگینڈا اگر جماعت احمد یہ میں لوگوں کی دلچسپی کے نتیجہ میں ہو تو اس میں برکت ہوگی اور مجھے تسلی ہوگی کہ خدا کی تقدیر نے یہ کام دکھائے ہیں۔اگر یہ جو پروفیشنل کمپنیاں ہیں ان کی معرفت آپ یہ کام کر کے دکھائیں گے تو مجھے تو ذرہ بھی اطمینان نہیں ہوگا اور دنیا کو بھی پتہ ہوتا ہے دراصل کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔دراصل دنیا ان باتوں میں دھوکے میں نہیں آیا کرتی۔اس لیے آپ اس معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں اور لوگوں سے ملیں، درخواستیں کریں۔وہ قبول کریں یا نہ کریں لیکن جتنا پراپیگنڈا دنیا میں ہونا چاہیے یہ طبعی ہونا چاہیے اور مصنوعی طور پر یہ پراپیگنڈا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔یاد رکھیں پراپیگنڈا کی اس وقت قیمت ہے جب یہ سچا ہو ورنہ یہ 33 جھوٹ ہے اور مذہبی جماعتوں کو جھوٹا پراپیگنڈا تباہ تو کر سکتا ہے ان کو تقویت نہیں دے سکتا۔“۔۔۔۔۔تو اس لیے میں نے انکار کیا اور خدا کے فضل سے جن ممالک سے کوئی بھی توقع نہیں تھی وہاں حیرت انگیز طور پر خدا کی قدرت نمائی کے نشان ظاہر ہوئے اور اتنا پراپیگنڈا ہوا ہے کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔پورے پاکستان میں ہمارے لیے جشن حرام قرار دے دیا گیا تھا اور اخبارات میں اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں احمدیت کے خلاف منفی باتیں تو آرہی تھیں لیکن احمدیت کے جشن تشکر کے سلسلے میں ایک لفظ بھی تحسین کا نہیں آرہا تھا۔اُدھر قادیان میں جو جشن تشکر منایا جا رہا تھا وہاں ہندوستان کا مرکزی ٹیلی ویژن کا نظام پہنچا ہوا تھا،