سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 486 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 486

486 اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے آج سے ایک سو سال پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔آج میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ شخص سچا تھا اور واقعہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پوری ہو گئی۔اور ایک شخص نے کہا، خالی وہ وزیر تھا یا کوئی اور نمائندہ، اس نے کہا کہ تم آج کی ایک صدی کے آخر پر تو دیکھ رہے ہو کہ کیا ہو رہا ہے دنیا میں۔مگر تم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ اگلی صدی کے آخر پر خدا تعالیٰ کے کتنے فضل تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے۔ایسے واقعات ایک ملک میں نہیں ہوئے ، ملک ملک میں، دیس دیس میں، خدا کے فضل اسی طرح نازل ہوئے ہیں اور غیروں نے اللہ تعالی کے فضل اور اس کی تحریک کے تابع ، اس کے فرشتوں کی تحریک کے تابع جماعت احمدیہ کی عظمت اور اسلام کی عظمت اور سر بلندی کا اقرار کیا ہے۔پس یہ ساری خبریں جب اکٹھی ہوں گی تو ایک وقت میں تو بتائی بھی نہیں جاسکتیں اور ایک وقت میں ہمارے دل برداشت نہیں کر سکتے۔پتہ نہیں کتنے سال تک اس کے تذکرے اور چلتے ہیں۔لیکن ابھی تو یہ آغاز ہے اور میں آپ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے جشن کے چند دن نہیں تھے۔ایک پورا سال ہم نے ان جشنوں کو منانے کا مقرر کیا ہے۔ایک جشن نہیں ہے بے شمار جشن ہیں۔گزشتہ سو سال کا ہر سال ایک جشن کا پیغام لے کر آیا تھا۔کون سا ایسا سال ہے جس میں آپ نے اللہ کے فضلوں کے نظارے نہیں کئے۔کون سا ایسا سال ہے جو شکر کے لئے اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہا۔پھر ہر سال کے مہینے تھے۔ہر مہینے میں خدا کے فضل نازل ہوتے دیکھے گئے۔پھر ہر مہینے کے ہفتے تھے۔اور ہر ہفتے کے دن اور پھر راتیں۔کوئی ایک لمحہ بھی ان دنوں ، ان راتوں، ان ہفتوں، مہینوں اور ان سالوں کا ایسا نہیں جس میں خدا تعالی نے جماعت کے اوپر اپنے احسانات اور فضلوں کی بارشیں نہ برساتی ہوں۔تو ایک جشن تو نہیں ہے۔یہ تو انگنت جشن ہیں جو ہم نے منانے ہیں۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 21 / اپریل 1989 ء - خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 254245) پھر جماعت احمد یہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 1989ء کے موقع پر دوسرے روز بعد دوپہر کے خطاب میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: