سلسلہ احمدیہ — Page 432
432 اس کو پڑھ سکتے ہیں۔منظور احمد چنیوٹی نے دعوی کیا کہ انہوں نے 15 ستمبر 1989ء تک صرف مرزا طاہر احمد کے ختم ہو جانے کی بات کی تھی ساری جماعت احمدیہ کی نہیں۔چلیں ایک یہ بھی اُن کو وقت کے اوپر تو بہ کی وضاحت کی توفیق مل گئی۔اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ منظور احمد صاحب چنیوٹی کے ساتھ جو خدا کا سلوک ہوا اور جو ان کے متعلق میں نے کہا تھا وہ کیا تھا؟ انہوں نے بعد میں بہت واویلا کیا کہ جماعت احمدیہ کے امام نے میرے متعلق قتل کی پیشگوئی کی ہے اور جس طرح ضیاء کو انہوں نے قتل کروایا ہے اس طرح میرے قتل کے بھی در پے ہیں۔اس لئے انہوں نے اعلان کیا اپنے خطبات میں کہ میں اس کا نوٹس صدر پاکستان کو بھی دے چکا ہوں، پرائم منسٹر کو بھی دے چکا ہوں باقی پولیس کے سب افسران کو بھی دے چکا ہوں کہ اگر میں قتل ہوا تو میرا قاتل مرزا طاہر احمد ہوگا کیونکہ اس نے یہ اعلان کروا دیا ہے۔یعنی مباہلہ تو جھوٹ اور بیچ پر تھا اور جواب میں جھوٹ بولا جا رہا ہے وہ بھی کھلا کھلا اور بچہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد بھی کہا کہ میرے کف میں ان کی وہ کیسٹ ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا اور آپ سب سن چکے ہیں اس خطبے کو، وہاں ہر گز یہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔کھلم کھلا جھوٹ۔وہ اعلان کیا تھا میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں پھر دیکھیں آپ کہ خدا تعالیٰ نے وہ باتیں سچی کر دکھائیں یا نہیں جو ان کے متعلق میں نے کہی تھیں۔میں نے یہ کہا تھا کہ 23 یہ مولوی لازماً اب اپنی ذلت اور رسوائی کو پہنچنے والا ہے۔( یہ ہے پیشگوئی ) یہ مولوی لازماً اب اپنی ذلت اور رسوائی کو پہنچنے والا ہے کوئی دنیا کی طاقت اب اس کو اس ذلت اور رسوائی سے بچا نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ مباہلہ میں جھوٹ بولنے والے باغیوں کے لئے مقدر کر چکا ہے اور لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران 62) کے اثر سے اور اس کی پکڑ سے اب کوئی دنیا کی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔پس انشاء اللہ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے۔ہر زندگی کے میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔اگر مولوی