سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 433 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 433

433 منظور چنیوٹی زندہ رہا یہ الفاظ ہیں ) تو ایک ملک بھی اس کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو۔“ 66 اس کے متعلق وہ کہتا ہے کہ میرے قتل کے متعلق دھمکی دی گئی۔ہے۔دم گر منظور چنیوٹی زندہ رہا تو ایک ملک بھی اس کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مرگئی ہو اور کثرت سے ایسے ملک دکھائی دیں گے جہاں پر احمدیت از سر کو زندہ ہوتی ہے یا احمدیت نئی شان کے ساتھ داخل ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ مردوں کو زندہ کر رہی ہے۔پس ایک وہ اعلان تھا جو منظور چنیوٹی نے کیا تھا۔ایک یہ اعلان ہے جو میں آج آپ کے سامنے کر رہا ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے ، خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں ہے کہ منظور چنیوٹی سچا ثابت ہو اور میں جھوٹا نکلوں۔منظور چنیوٹی جن خیالات و عقائد کا قائل ہے وہ بچے ثابت ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو عقائد ہمیں عطا فرمائے ہیں، آپ اور میں جن کے علمبردار ہیں، یہ عقائد جھوٹے ثابت ہوں۔یہ ممکن نہیں ہے۔اس لئے ی شخص بڑی شوخیاں دکھاتا رہا اور جگہ جگہ بھا گتا رہا۔اب اس کی فرار کی کوئی راہ اس کے کام نہیں آئے گی اور خدا کی تقدیر اس کے فرار کی ہر راہ بند کر دے گی اور اس کی ذلت اور رسوائی دیکھنا آپ کے مقدر میں لکھا گیا ہے۔انشاء اللہ۔“ مخطبہ جمعہ 25 رنومبر 1988ء) اس کے بعد جو واقعات رونما ہوئے۔روزنامہ ملت 6 مارچ 1989 ء لندن میں یہ خبر شائع ہوئی۔پنجاب اسمبلی میں بحث کے دوران خواجہ یوسف نے کہا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کے موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ بازیاب ہوئے تو میں پھانسی چڑھ جاؤں گا۔ایک اور نشان کی طرف بھی اشارہ کر دیا ایک غیر احمدی اسمبلی کے ممبر نے۔اب یہ خدا نے اس کے دل میں ڈالی ہے بات ورنہ کسی کو اس ماحول میں کیسے جرات ہوئی کہ احمدیوں کی تائید میں ایسی بات، ایسی جرات سے