سلسلہ احمدیہ — Page 226
226 ایک دن ایک عورت نے مجھے ناحق پریشان کیا اور بہت تکلیف پہنچائی۔میں نے خدا کے حضور رورو کر دعا کی کہ میرے دل میں اس کے خلاف کوئی نفرت پیدا نہ ہو۔اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں خدا سے دعا تو مانگ رہا ہوں لیکن میرا کوئی مذہب نہیں۔تب میں نے معالیہ دعا کی کہ خدایا مجھے سچائی کا نور عطا کر۔اور تو خود مجھے سیدھی راہ دیکھا۔اگلے دن ایک کام کی غرض سے میں عبدل (احمدی دوست) سے ملا۔باتوں باتوں میں اس نے مجھ سے اسلام کا ذکر کیا۔میں نے دل میں سوچا یہ بھی کوئی مذہبی پاگل ہوگا۔لیکن جوں جوں اس نے خدا کی وحدانیت اور اسلام کی معقول تعلیم کی وضاحت کی مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور چند دن بعد میرا دل اسلام قبول کرنے کے لئے تیار تھا۔میرے تمام شکوک رفع ہو چکے تھے۔امام صاحب نے میرے بعض سوالات اور شکوک کا معقول جواب دے کر مجھے مطمئن کر دیا۔یہ دوست اللہ کے فضل سے مخلص احمدی ہیں۔تبلیغ بھی کرتے ہیں۔بعد ازاں ان کی بیوی اور دو بچوں نے اسلام قبول کر لیا۔ایک بیٹا کارا گو و امیں ہے اور باقی فیملی گوائٹے مالا میں ہے۔ان کا اسلامی نام عابد رکھا گیا۔انہوں نے 13 ستمبر 1996ء میں بیعت کرنے کی سعادت پائی۔گوائٹے مالا میں تربیت حاصل کرنے کے بعد نکاراگووا واپس جا کر فریضہ تبلیغ ادا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔مگر زندگی نے وفا نہ کی اور 29 جولائی 1998ء کو ٹریفک کے ایک حادثہ میں وفات پاگئے۔انا للہ و انا الیہ راجِعُون۔حادثہ میں ان کی اہلیہ بھی شدید زخمی ہوئیں اور صحت یاب ہونے کے بعد واپس اپنے ملک نکاراگودا چلی گئیں اور اپنے عزیز واقارب و ماحول میں اشاعت اسلام کا فریضہ انجام دیتی رہیں۔کاراگوا میں 6 سعتیں اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطا فرمائیں۔