سلسلہ احمدیہ — Page 68
68 بنگلہ دیش بہت ہی بڑے ابتلا میں سے بلکہ بار بار ابتلاؤں میں سے گزرا ہے اور ان پر اللہ تعالی کا خاص فضل ہے کہ باوجود اس کے کہ جماعت چھوٹی اور دیکھنے میں کمزور ہے مگر ایمان اور ہمت اور استقلال اور بہادری میں اور ثابت قدمی میں دنیا کی کسی جماعت سے پیچھے نہیں بلکہ اکثر جماعتوں سے آگے قرار دیا جا سکتا ہے۔اتنے بڑے بڑے بوجھ، اس حیرت انگیز طریق پر جماعت نے اٹھائے اور جہت سے مسکراتے ہوئے بغیر خوف کے اظہار کے بڑے بڑے خوفوں سے گزر گئے اور بڑے بڑے نقصانات کے رونے نہیں روئے اور اللہ کی حمد کے گیت گاتے ہوئے اس بات پر شکر کرتے ہوئے کہ خدا نے ہمیں توفیق بخشی اور استقامت عطا فرمائی وہ جماعت آگے سے آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور ہر ابتلا کا فوری نتیجہ خدا کے غیر معمولی فضلوں کی صورت میں ان پر نازل ہو رہا ہے اور ہر وہ کوشش جو ان کو کمزور بنانے کی کی جارہی ہے وہ ان کو پہلے سے بہت زیادہ طاقتور بنا کر نکالتی ہے۔یہ تو خدا کا ایک عمومی سلوک ہے جو سب اچھی جماعتوں سے ہوا کرتا ہے۔لیکن جیسے کہتے ہیں جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا۔تو وہ ماشاء اللہ اپنی قربانیوں میں گڑ بہت ڈالتے ہیں اور ویسے بھی ان کو میٹھے کی بہت عادت ہے اس لئے یہ گڑ والا محاورہ ان پر خاص صادق آتا ہے۔بگر قربانیوں کا جہاں تک تعلق ہے ان میں جتنا میٹھا ڈالیں اچھا ہے کیونکہ وہ میٹھا تو منظور ہی منظور ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قربانیوں کو بہت جلد جلد پھل عطا کرتا ہے۔۔۔۔حضور نے فرمایا: جماعت احمدیہ کا سورہ صف کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور جماعت احمد یہ بنگلہ دیش جس شان کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر رہی ہے اور جس اخلاص کے ساتھ ثابت قدمی سے ابتلاؤں کو برداشت کر رہی ہے اور نیکیوں میں آگے بڑھ رہی ہے اس وجہ سے میں نے انہی آیات کو آج اُن کے جلسہ کے لئے موضوع بنایا تا کہ ان کو پتہ لگے کہ قرآن کریم میں ان کا ذکر موجود ہے۔بظاہر کہنے کو تو یہاں یہ ذکر نہیں کہ 4 بخشی بازار ڈھا کہ میں یہ ہوگا یا برہم بڑیے میں فلاں بات ہو گی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے جو ٹھنٹے کھینچے ہیں کہ خدا کی خاطر کیا کیا تکلیفیں اٹھائی جاتی ہیں وہ یہاں موجود ہیں اور اس کی جزا جو دی جاتی ہے وہ بھی ذکر ہے۔فرمایا