سلسلہ احمدیہ — Page 69
69 جاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَالفُسکھ جو کچھ بھی مصیبتیں تم پر ٹوٹیں، جو مظالم تم پر توڑے جائیں، تم ثابت قدمی کے ساتھ اپنے اموال کی قربانی بھی پیش کرتے چلے جاتے ہو اور جانوں کی قربانی بھی پیش کرتے چلے جاتے ہو۔چنانچہ وہاں جس قسم کے ہولناک حالات پیدا کئے گئے ہیں، برہمن بڑیہ میں منتقلی اور 4 - بخشی بازار ڈھا کہ میں ان حالات کے نتیجہ میں بڑے بڑے بہادروں کا بھی پتہ پانی ہو سکتا تھا اور بڑے بڑے دلیر کہلانے والے بھی خوفزدہ ہو سکتے تھے۔لیکن چھوٹے بچے کیا اور مرد کیا اور بڑے کیا سب نے صبر کا اور استقامت کا ایسا عظیم نمونہ دکھایا ہے۔اس دلیری کے ساتھ ان خوفوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھجھکے بغیر اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے اور ظالموں نے ان کو اس طرح پیٹا ہے جس طرح کسی مٹی کے ڈھیر پر سوٹے ہر سائے جارہے ہوں اور اف تک نہیں کی چیخیں نہیں ماریں، شور نہیں مچایا میں نہیں کیں اور کسی قسم کی بھی کمزوری کا اظہار نہیں کیا۔۔ان میں جو بوڑھے تھے وہ بھی تقریباً جاں بلب ہو گئے اور جوان اور بچے جو تھے وہ بھی بری طرح بیٹے گئے۔بہت دردناک طریق پر ان کو مارا گیا یہاں تک کہ بعض دیکھنے والے غیر احمدیوں نے جب دیکھا تو بعد میں تعجب کا اظہار کیا کہ بیچ کس طرح گئے۔کیونکہ جس حال میں وہ چھوڑ کر گئے تھے بظاہر بچنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔لیکن بنگلہ دیش کی جماعت کی جو خوبی میں بیان کر رہا ہوں وہ ان کی بہادری ہے۔ذرہ بھر بھی انہوں نے وحشت نہیں دکھائی۔خوف کا اظہار نہیں کیا۔اور اللہ کے فضل سے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ خدا کی خاطر ان دکھوں کو برداشت کیا۔ان کے سامنے لیے عرصہ کی قربانیوں کا پھل جو بخشی بازار کی عمارت کی صورت میں تھا اور اس میں مختلف قسم کا قیمتی فرنیچر بھی سجا ہوا تھا، مختلف کمرے تھے، رہائش کی مختلف جگہیں بھی تھیں، مسجد بہت خوبصورت سجائی گئی تھی۔بہت خرچ کیا گیا تھا۔ان سب چیزوں کو اپنے سامنے آگ لگتے، جلتے، برباد ہوتے ہوئے بظاہر دیکھا لیکن قطعا واویلا نہیں کیا اور بعد میں بھی جو خط مجھے وہاں سے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ خدا نے اپنے فضل سے اس جماعت کو غیر معمولی طور پر اخلاص اور استقامت عطا فرمائی ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر معمولی طور پر بنگال کی جماعت نے خدا کی راہ میں ثابت قدمی دکھائی ہے۔