سلسلہ احمدیہ — Page 67
67 کو پلانا شروع کیا۔قصبے کے دیگر لوگ بھی جمع ہو گئے۔اس واقعہ میں 4 افراد شہید جبکہ 16افراد شدید زخمی ہوئے۔شہداء میں محترم غلام محمد صاحب ولد علی محمد صاحب ( عمر 68 سال) محترم عطاء اللہ صاحب ولد مولا بخش صاحب ( عمر 65 سال)، محترم عباس علی صاحب ولد فیض احمد صاحب ( عمر 35 رسال) اور محترم افتخار احمد صاحب ولد چوہدری محمد صادق صاحب ( عمر 35 رسال) اور شہزاد احمد ( عمر 16 رسال) شامل ہیں۔بنگلہ دیش پاکستان میں مخالفت کی اس آگ کو معاندین احمدیت نے دیگر ممالک میں بھی منتقل کرنا شروع کر دیا۔بنگلہ دیش بھی ان ممالک میں سے ایک ملک ہے۔اس میں منظم طور پر جب احمدیوں کی مخالفت کا شوشہ چھوڑا گیا اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے تو اس ملک کے بعض عقلمند سیاسی لیڈرز نے پاکستان سے سبق سیکھتے ہوئے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا۔تاہم اس کے باوجود بنگلہ دیش کے شہروں اور گاؤں سا کھیر (Sathkira) (سندربن ) ، ناٹور (Natore)، براہمن بڑی (Brahmanbaria)، بھا دو گڑھ (Bhadugarh) کھلنا، جمال پور، چٹاگانگ، ناصر آباد، طاہر آباد، شری شاباڑی، کھڑام پور، دیو گرام، کروڑا، گھٹورا اور ڈھا کہ وغیرہ میں احمدیہ مساجد اور احمدی گھروں پر حملے کئے گئے۔کئی گھر جلا دیئے گئے، مسجدوں کو بھی جلایا گیا۔بعض جگہوں پر احمد یہ مساجد پر مخالفین نے زبر دستی نا جائز قبضہ کر لیا۔اسی طرح انہیں پتھراؤ اور ایک جگہ بموں سے نقصان پہنچایا گیا۔ان فسادات میں سات احمدی شہید جبکہ متعد د احمدی زخمی ہوئے۔جماعتہائے احمد یہ بنگلہ دیش نے جس صبر و استقامت کے ساتھ ان مظالم کو برداشت کیا اور ایمانی جرات اور ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 12 فروری 1993ء میں جماعت احمد یہ بنگلہ دیش کے سالانہ جلسے کے اختتام پر اُن سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا: