سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 55 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 55

55 حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس ظالمانہ فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : خلیفہ قرآن سے یہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں۔بعض ظالموں کو ظلم کا موقع بھی مل جاتا رہا ہے لیکن خدا کی پکڑ ضرور ظاہر ہوئی ہے ان کے متعلق۔آہستہ آئی ہو یا دیر سے آئی ہو۔خدا کی پکڑنے ایسے صاحب جبروت لوگوں کو جو اپنے آپ کو صاحب جبروت سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ کو بے طاقت اور بے اختیار جانتے تھے یا اس کے وجود ہی کے قائل نہیں تھے ان کے اس طرح نام ونشان دنیا سے مٹا دئیے کہ عزت کا ہر پہلو ان کے ناموں سے مٹ گیا اور ذلت کے سارے پہلوان کے ناموں کے ساتھ لگے ہوئے ہمیشہ کے لئے زندہ رہ گئے۔رہتی دنیا تک رحمتوں کی بجائے لعنتوں سے یاد کرنے کے لئے وہ نام باقی رکھے گئے۔اس لئے ہم تو اس خدا کو جانتے ہیں، اس صاحب جبروت کو جانتے ہیں۔کسی اور خدا کی خدائی کے قائل نہیں۔اس لئے احمدیوں کا سران ظالمانہ سزاؤں کے نتیجے میں جھکے گا نہیں بلکہ اور بلند ہوگا، اور بلند ہوگا یہاں تک کہ خدا کی غیرت یہ فیصلہ کرے گی کہ دنیا میں سب سے زیادہ سر بلندی احمدی کے سر کو نصیب ہوگی کیونکہ یہی وہ سر ہے جو خدا کے حضور سب سے زیادہ عاجزانہ طور پر جھکنے والا سر ہے۔" 66 آپ نے فرمایا: خطبہ جمعہ فرموده 21 / فروری 1986ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 162) " ہم نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ ان کو یہ توفیق بخشے گا کہ نہیں کہ اپنے ظالمانہ فیصلے پر عمل پیرا ہو سکیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں جو بھی تدبیر میں رکھی ہیں ان تدبیروں سے بھی ہم کام لے رہے نہیں اور لیتے رہیں گے اور تقدیروں کے رخ بدلنے کے لئے جو دعا کے ہتھیار ہمیں عطا کیے ہیں ہم ان دعاؤں سے بھی کام لیتے رہیں گے کیونکہ دعاؤں کے ذریعہ تقدیریں بھی ٹل جایا کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود خدا کی مرضی بہر حال غالب رہے گی۔اگر خدا نے کسی قوم کو شہادت کی سعادت عطا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہم اس کی ہر رضا پر راضی رہیں گے۔“ آپ نے اسی خطبہ میں فرمایا: خدا کے نام پر مرنے کے لئے تیار رہنے والوں کو کبھی موت مار نہیں سکی کبھی کوئی