سلسلہ احمدیہ — Page 56
56 دشمن ان پر فتح یاب نہیں ہو سکا۔اپنی دعاؤں میں التزام اختیار کرو کیونکہ قرآن کریم کی ایک آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں۔جو مانگتا ہے اس کو ضرور دیا جاتا ہے۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔دنیا میں دیکھو کہ بعض خر گدا ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر روز شور ڈالتے رہتے ہیں ان کو آخر کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور کریم ہے۔جب یہ اڑ کر دعا کرتا ہے یعنی بندہ، تو پالیتا ہے۔کیا خدا انسان جیسا بھی نہیں۔( الحکم جلد 8 مارچ 1906ء) خطبہ جمعہ فرموده 21 فروری 1986ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 170-169) حضور رحمہ اللہ نے ان اسیرانِ راہِ مولا کے دکھ کو اس طرح اپنے اوپر لیا کہ آپ اکثر اپنے خطبات و خطابات میں ان کی رہائی کے لئے احباب جماعت کو نہایت دلسوزی سے دعاؤں کی تحریک فرماتے۔آپ کس طرح ان کی آزادی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑاتے اور تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتے رہے، اس کا اندازہ آپ کے ان خطوط سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے ان اسیران اور ان کے اہلِ خانہ اور عزیزوں کو خود اپنے ہاتھ سے تحریر فرمائے۔( اس مقدمہ ساہیوال اور اسیرانِ راہ مولی کے کرب انگیز حالات کی تفصیل جاننے کے لئے ملاحظہ ہو مکرم محمد الیاس منیر صاحب کی خود نوشت کتاب حکایت دارورسن۔) حضور رحمہ اللہ نے اپنی ایک نظم میں اسیرانِ راہِ مولا کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا: ہیں کس کے بدن دیس میں پابند سلاسل پردیس میں اک روح گرفتار بلا ہے کیا تم کو خبر ہے کہ مولا کے اسیروا غم سے مجھے اک رشتہ جاں سب سے سوا ہے آجاتے ہو کرتے ہو ملاقات شب و روز سلسلۂ ربط نہم صبح و مسا ہے اے تنگی زنداں کے ستائے ہوئے مہمان وا چشم ہے، دل باز، در سینہ کھلا ہے تم نے میری جلوت میں نئے رنگ بھرے ہیں تم نے میری تنہائیوں میں ساتھ دیا ہے تم چاندنی راتوں میں میرے پاس رہے ہو تم سے ہی مری نقرئی صبحوں میں ضیا ہے کیس دن مجھے تم یاد نہیں آتے مگر آج کیا روز قیامت ہے! کہ اک حشر بپا ہے