سلسلہ احمدیہ — Page 661
661 کے فضل سے احمدیت کے حق میں یہ مباہلے کا سال کیسے کیسے نشان پیش کر رہا ہے۔“ اللہ وسایا جو جماعت کی مخالفت میں پیش پیش ہوا کرتا تھا اس پر فالج کا حملہ ہوا۔صدر پاکستان لغاری نے نشتر ہسپتال میں خود اس کی عیادت کی اور خصوصی نگران مقرر کئے مگر ان کی کچھ پیش نہ گئی۔یہ شخص جو احمدیت کے خلاف بہت بکو اس کیا کرتا تھا اسی مباہلے کے سال کا نشانہ بن گیا۔تنزانیہ میں یہ واقعہ گزرا ہے کہ سونگیا میں ایک سنی جماعت کا مولوی شیخ چی میٹے (Chi Tete)۔یہ مصر سے پڑھ کر آیا اور شرارت اور فتنے میں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گیا، روزانہ گالیاں دیتا تھا۔اس کے جواب میں اس کے سامنے مباہلے کا چیلنج پیش کیا گیا اور کہا کہ اب تم باز آجاؤ ورنہ اس مباہلے کی مارتم پر پڑے گی۔دو دن کے اندر پولیس نے اسے ایک گھناؤنے جرم میں گرفتار کر لیا اور اس وقت وہ جیل میں ہے۔(ماخوذ از خطاب حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ فرمودہ 26 جولائی 1997ء بر موقع جلسہ سالانہ کر کے ) اس سال دنیا بھر میں متعدد مقامات پر ایسے بہت سے عبرت انگیز واقعات رونما ہوئے جنہوں نے اسلام احمدیت کی صداقت اور معاندین کے جھوٹا ہونے اور ان کے خدا کی لعنت کا مورد ہونے پر گواہی دی۔ذیل میں ایسے چند ایک مزید واقعات درج کئے جاتے ہیں۔مکرم مرزا نصیر احمد صاحب مبلغ سری لنکا نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں اپنے خط محررہ 30 جون 1997ء میں جماعت پیالہ (Pasyala) میں معاندین جماعت پر الہی گرفت کے دو نہایت ایمان افروز واقعات کی تفصیلات بھجواتے ہوئے لکھا کہ : ایک واقعہ تو یہ ہے کہ ہمارا ایک احمدی نوجوان نصیر احمد نامی وہاں کی غیر احمدی مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا جس کی چھت پر ایک غیر احمدی نوجوان بجلی کا کوئی کام کر رہا تھا۔ہمارے احمدی نوجوان کو وہاں کھڑے اس کے ایک غیر احمدی واقف کار نے باتوں میں لگا لیا جو راستہ میں کھڑا تھا۔ان دونوں کو باتوں میں مصروف پا کر اوپر والا نوجوان مشتعل ہو گیا اور اس نے بدکلامی شروع کر دی اور پھر اسی پر اکتفانہ کی بلکہ نیچے اتر آیا اور اس ہمارے احمدی نوجوان سے الجھنا چاہا۔نیز اس کو کہنے لگا کہ تمہیں معلوم ہونا