سلسلہ احمدیہ — Page 621
621 میں مصروف تھے۔29 / مساجد تعمیر ہو چکی تھیں اور چھ زیر تعمیر تھیں اور اس وقت تک تین سو گیارہ مساجد اپنے اماموں اور مقتدیوں سمیت جماعت کو عطا ہو چکی تھیں۔اسی طرح بینن کے قریبی ستر (70) بادشاہ احمدیت کے نور سے منور ہو چکے تھے۔ان میں بادشاہوں کی ایسوسی ایشن کے صدر کنگ آف پارا کو اور اس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کنگ آف آلا ڈا اور اس ایسوسی ایشن کے ایک اور اہم رکن کنگ آف داسا شامل تھے۔اور ان کو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہو چکا تھا۔اور یہ احمدیت کی صداقت پر پختہ ایمان رکھنے والے اور اس کے لئے بڑی غیرت رکھنے والے تھے۔ایک موقع پر کنگ آف پارا کونے بادشاہوں کی ایسوسی ایشن کی ایک مجلس بلائی اور ان کے سامنے یہ سوال رکھا کہ اگر جماعت کے خلاف بینن میں کارروائی کی گئی تو آپ کیا کریں گے؟ تو سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ احمدیت کے خلاف بینن میں اس وقت تک کچھ نہیں ہوسکتا جب تک ہم زندہ ہیں کیونکہ احمدیت نے ہم کو امن دیا اور ایمان دیا ہے جو کہ ہم سب کو اور ہماری عوام کو پسند ہے۔کنگ آف پارا کو نے کہا کہ میں احمدیت کو اس علاقہ میں لے کر آیا ہوں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔انشاء اللہ العزیز میرے جیتے جی احمدیت کے لئے کوئی برا نہیں سوچ سکتا۔اسی طرح ایک موقع پر انہوں نے مخالف احمدیت شر پسند ملاؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی ریڈیو پر تقریر میں کہا کہ جو بھی احمدیت کے متعلق حقیقی علم اور صحیح معلومات لینا چاہتا ہے وہ مجھ سے آکر لے کیونکہ میں بڑی تحقیق اور مطالعہ کے بعد احمدی ہوا ہوں اور خود خلیفہ وقت سے مل بھی چکا ہوں اور احمدیت کی تمام سرگرمیوں سے واقف ہوں۔جماعت احمدیہ بینن کا پہلا بڑا جلسہ (جو بینن کا سولہواں جلسہ تھا) 1999 ء میں ہوا۔اس میں شامل احمدیوں اور مہمانوں کی تعداد پندرہ سوتھی۔2000ء میں جلسہ کی حاضری پندرہ سوسے بڑھ کر چار ہزار ہوگئی۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جلسہ بین پچاس ہزار نفوس کا ہو۔اللہ تعالی کے فضل سے 2002ء میں ہونے والے اٹھارہویں جلسہ سالانہ کی حاضری حیرت انگیز طور پر پچاس ہزار نفوس سے زائد تھی اور ایک عظیم اجتماع تھا۔اس میں ڈیڑھ ہزار غیر از جماعت افراد تھے۔ملک کی 421 / جماعتوں سے، ٹوگو کی 26 جماعتوں سے اور نائیجر کی 14 جماعتوں سے جوق در جوق افراد اس جلسہ