سلسلہ احمدیہ — Page 620
620 ذریعہ مجھے سمجھائی گئی تھی۔اور کس نے وہ انقلاب برپا کیا۔اب تمام دنیا کی عالمی بیعتوں میں سے قریباً نصف تک فرنچ سپیکنگ کی تعداد پہنچ گئی ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔۔۔۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: پس آسمان کا خدا ہے جو ہمارا حامی و ناصر ہے۔میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ وہ کشتی جسے میرے ہاتھ چلا ر ہے تھے، اللہ کی رحمت تھی جو اس کشتی کو چلارہی تھی۔آسمانی طاقت تھی جو اسے آگے دھکیل رہی تھی۔اور بعد میں آنے والے واقعات نے بتا دیا کہ میرے نفس کا اس میں ایک ذرہ بھر دخل نہیں تھا۔خدا کی تقدیر تھی جو رحمتیں بن کر ہم پر برس رہی ہے۔“ (ماخوذ از خطاب بر موقع جلسہ سالانہ یو کے 1995ء دوسرے روز بعد دوپہر کا خطاب) الغرض مذکورہ بالا رویا کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے فریج سپیکنگ ممالک میں اپنی رحمتوں کی ایسی ہوائیں چلائیں کہ فوج در فوج لوگ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔اور جہاں پہلے مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں بیعت میں ہوتی تھیں وہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش اسلام احمدیت ہونا شروع ہوئے۔سینکڑوں نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور سینکڑوں مساجد بنی بنائی مع نمازیوں کے جماعت کو عطا ہوئیں۔ان ممالک میں جماعت کے مشن ہاؤسز اور مبلغین و معلمین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور تعلیم و تربیت اور تبلیغ کی مساعی کئی چند ہوگئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف عوام الناس میں سے سعید فطرت روحوں نے جماعت میں شمولیت اختیار کی بلکہ بہت سے چیفس اور اپنے اپنے علاقوں کے معززین اور مقامی بادشاہوں نے بھی احمدیت کو قبول کیا اور اخلاص اور فدائیت اور قربانی کی نہایت روشن مثالیں قائم کیں۔مثال کے طور پر بینن میں 1996 ء تک ایک ہزار افراد جماعت احمدیہ سے وابستہ تھے اور کل آٹھ چھوٹی بڑی احمد یہ مساجد تھیں۔لیکن دور خلافت رابعہ کے آخر تک یہاں جماعتوں کی تعداد چار سو ہو چکی تھی اور لاکھوں افراد جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے تھے۔1997ء تک بیٹن میں صرف ایک مشن ہاؤس ملک کے دارالحکومت میں تھا اور 2003 ء تک نو (9) نے مشن ہاؤسز قائم ہو چکے تھے اور 21 لوکل معلمین ملک کے طول و عرض میں اسلام احمدیت کا پیغام پہنچانے اور تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دینے