سلسلہ احمدیہ — Page 527
527 سکھر کے اسیران راہ مولا کی آٹھ سال بعد قید سے رہائی اور Friday the 10th سے اس کا تعلق الغرض خلافت رابعہ کے دور میں اور اس کے بعد خلافتِ خامسہ کے مبارک دور میں بھی متعدد ایسے واقعات ونشانات ظاہر ہوئے جو کسی نہ کسی رنگ میں Friday the 10th کے عظیم الشان کشف میں دکھائی جانے والی روشن تحتی کے ساتھ منسلک تھے اور وہ افراد جماعت کی تقویت ایمان کا موجب ہوئے۔مثل سکھر کے دو اسیران راہ مولی بھائی مکرم پروفیسر ناصر احد قریشی صاحب اور مکرم رفیع احمد قریشی صاحب جو 1984ء سے سکھر جیل میں پابند سلاسل تھے، آٹھ سال بعد 1992ء میں ان کی رہائی کو بھی حضور نے قادیان دارالامان میں اپنی Friday the 10th ( یعنی جمعتہ المبارک 10 / جنوری 1992ء) کو کی جانے والی خصوصی دعا کا اعجاز قرار دیا۔حضور رحمہ اللہ کو ان اسیران کی رہائی کی خبر اس وقت ملی جب آپ قادیان سے واپسی پر دہلی کے سفر کے دوران امرتسر اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں انتظارگاہ میں تھے۔جب حضور رحمہ اللہ کو یہ خوشخبری دی گئی تو آپ کا چہرہ فرط مسرت سے چمک اٹھا اور فرمایا: فرمایا: قادیان میں اس جمعہ یعنی Friday the 10th کو میں نے خاص طور پر ان کی انجازی رستگاری کے لئے بارگاہ رب العزت میں التجا کی تھی۔الحمد للہ کہ خدا تعالی نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور الہام Friday the 10th کی چمکار پر تصدیق کی ایک اور مہر ثبت کردی۔اسی ضمن میں جب دہلی پہنچ کر حضور نے محترم پروفیسر ناصر احمد قریشی صاحب سے فون پر بات کی تو میں جب سے قادیان آیا ہوں آپ لوگوں کے لئے خصوصیت سے دعائیں کر رہا ہوں اور پھر Friday the 10th جو قادیان میں آیا اس میں میں نے ایسی خصوصیت سے دعا کی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ واپس نہیں آئے گی۔“ تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو کتاب دوره کاریان 1991ء حضرت مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ۔مرتبہ ہادی علی چوہدری صفحہ 162 (166)