سلسلہ احمدیہ — Page 334
334 اس کتاب کی غرض و غایت اور خالصہ منطقی نقطہ نظر سے اس تجزیہ کی ضرورت و اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ : دم کثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مرورِ زمانہ سے حقیقت بگڑ کر افسانوں اور قصے کہانیوں کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ایسے قصے اور افسانے انسان کو زندگی کے اصل مقصد سے دور لے جانے کا موجب بن جایا کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں مذہب یکسر ایسے خیالی اور تصوراتی روپ میں ڈھل جاتا ہے جس کا اصل حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔برخلاف اس کے حقیقی اور اصلی مذہب کی جڑیں تاریخی حقائق اور سچائیوں میں پیوست ہوتی ہیں اس لئے اصلی اور حقیقی مذہب انسانی معاشرے میں نمایاں تبدیلیاں لانے کی اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔اس لحاظ سے مسیح کے اہل مذہب اور اس کی تعلیم کو جاننے اور سمجھنے کے لیے حقیقت کو کہانیوں سے، اور سچائی کو افسانوی قصوں سے جدا اور پاک کرنا ضروری ہے۔میری اس کوشش اور کاوش کا اصل مقصد بھی تلاش کر کے حق تک پہنچنا ہے۔“ کتاب کے آخر پر آپ نے مسیح کی آمد ثانی کے مضمون کو بھی بیان فرمایا ہے اور اس پیشگوئی کے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کے وجود میں ظہور پر روشنی ڈالی ہے۔اس نہایت فاضلانہ کتاب کے انگریزی کے علاوہ عربی، فریج، انڈونیشین، سواحیلی، نارو یکین، سپینش اور اردو میں تراجم طبع ہو چکے ہیں۔یوں یہ کتاب 8 رزبانوں میں دستیاب ہے۔کلام ظاہر حضرت خلیفہ اصبح الرابع رحم اللہ کے منظوم کلام کا متن مجموع حضو رحمہ اللہ کی اجازت سے حضور کی زندگی میں اور حضور کی نظر ثانی کے بعد پہلی بار لجنہ اماءاللہ کراچی نے عمدہ کتابت اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ شائع کرنے کی سعادت حاصل کی۔اس کے آخر پر ایک Glossary بھی دی گئی ہے جس میں مشکل الفاظ کا تلفظ اور معانی بھی درج کئے گئے ہیں۔