سلسلہ احمدیہ — Page 333
333 ماجیت اور آپ کی آمد اول اور موعودہ آمدثانی کے بارہ میں وسیع اثر ورسوخ رکھنے والے یہ عظیم مذاہب کسی ایک مشترکہ تفہیم یا نظریہ پر باہم متفق ہو جائیں تو اس سے ان بہت سے مسائل کے حل ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جن سے فی زمانہ نوع انسانی دو چار ہے اور ان ہر سہ مذاہب کے درمیان بہت سے اختلافات دور ہو کر باہمی رقابت و مخاصمت ختم ہوسکتی ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی سے تعلق رکھنے والے حقائق ، ان کی آمد کے مقصد اور ان کی شخصیت یا ذات کو صحیح طور پر سمجھاری نہیں گیا اور ان کی زندگی کے جملہ پہلوؤں کو عجیب و غریب معنی پہنا دیئے گئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس کتاب میں مسیح ناصری کی ذات اور ان سے متعلقہ مختلف افکار و نظریات ، واقعه صلیب، کفارہ اور گناہوں سے نجات ، تثلیث ، واقعہ صلیب کے بعد مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے مسیح علیہ السلام کے ابتدائی حواریوں اور بعد میں سینٹ پال کے ذریعہ قائم ہونے والی موجودہ مسیحیت کے درمیان اعتقادی فرق اور مسیح کی آمد ثانی وغیرہ امور سے متعلق تمام امور کا خالصہ منطقی نقطہ نظر سے جائزہ پیش کیا ہے۔کیونکہ خود آپ کے الفاظ میں: دد منطقی نقطہ نظری ذہنی اور فکری لحاظ سے ایک ایسا پلیٹ فارم یا مقام اتصال کی حیثیت رکھتا ہے جو سب کے مابین مشترک ہے اور اسے تعمیری اور با مقصد تبادلۂ خیالات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔بصورت دیگر محض اناجیل کے بیانات اور ان کی متعدد تشریحات کی بنا پر کئے جانے والا کوئی بھی تبادلہ خیال، مباحثہ اور تبادلہ کسی ایسی الجھن میں ڈالنے کا موجب بنے گا کہ اس گنجلک سے باہر نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔۔۔انسانی منطق اور استدلال کو ( جبکہ نئے سائنسی علوم کی معاونت بھی اسے حاصل ہو چکی ہے ) ایک ایسی منطق اور ایک ایسے استدلال کی حیثیت حاصل ہے جس کا نہ کوئی عقیدہ ہے اور نہ کسی مذہبی ملک کا ہی وہ پابند ہے اور نہ ہی کسی مخصوص رنگ ونسل کی آمیزش کا دخل اس میں ممکن ہے۔اسی لیے جملہ اقوام اور مذاہب کے مابین اسے ایک مشترکہ قدر کی حیثیت حاصل ہے۔لہذا ایک ایسے متفقہ نظریہ تک پہنچنے کے لیے جو سب کے نزدیک قابل قبول ہو صرف اور صرف منطقی استدلال ہی واحد بنیاد کا کام دے سکتا ہے۔“