سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 51 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 51

51 جماعت احمدیہ کے صد سالہ جشن تشکر کے موقع پر ایک مقدمہ بعض احمدی نوجوانوں کے خلاف اس جرم کی بنا پر قائم کیا گیا کہ وہ آدھے بازوؤں والی سیاہ بنی نہیں ٹی شرٹس جن پر Years of 100 Truth لکھا ہوا تھا پہنے ہوئے تھے، مرزا غلام احمد کی بجے کے نعرے لگارہے تھے اور آتش بازی چلا کر جشن کا اظہار کر رہے تھے۔ایک احراری مولوی کی درخواست پر 18 دسمبر 1989ء کو زیر دفعہ C/298 تھانہ ربوہ میں تیرہ سر کردہ احمدی احباب کے خلاف ایک مقدمہ کا اندراج کیا گیا جس میں شکایت کی گئی کہ ربوہ میں احمدی مساجد اور رہائشی مکانات پر کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات تحریر کی گئی ہیں۔اس مقدمہ میں مکرم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ اور خاندان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی معزز افراد اور سلسلہ کے عمائدین کو نامزد کیا گیا۔ایس ایچ اوتھا نہ ربوہ کی طرف سے ایک مقدمہ تمام احمدی اہالیان ربوہ کے خلاف جن کی آبادی کم و بیش پچاس ہزار ہے مورخہ 15 دسمبر 1989ء کو زیر دفعہ C/298 تعزیرات پاکستان درج کیا گیا۔تھانیدار نے پرچہ درج کرتے ہوئے لکھا: بروئے اطلاعات و خط و کتابت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و مبلغین احرار و معززین علاقہ کے توسط سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ علاقہ تھانہ ربوہ کے مختلف مقامات پر بسنے والے مرزائی جنہیں آئین پاکستان کی ترمیم 1974ء کی رُو سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہوا ہے اور امتناع قادیانی آرڈیننس 1984ء کی رُو سے قادیانی مذہب کی ہر قسم کی تبلیغ تحریر اتقریر اء اشارة بلا واسطه و بالواسطه اور اسلامی و قرآنی اصطلاحات کے استعمال سے روکا گیا۔لیکن مرزائیوں نے اس پابندی کے باوجود اپنی قبروں، عمارات ، دفاتر جماعت احمدیہ، عبادت گاہوں، کاروباری مراکز و غیرہ پر کلمہ طیبہ اور دیگر قرآنی آیات تحریر کی ہوئی ہیں۔مزید یہ کہ وہ آئے دن مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں جن میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو السلام علیکم کہہ دینا اور اذان فجر کے اوقات میں ٹولیوں کی صورت میں بآواز بلند شہر میں کلمہ طیبہ پڑھنا اور دیگر بچوں قسم کی اسلامی حرکات کا اعادہ