سلسلہ احمدیہ — Page 50
50 ذریعہ حکام سے شکایت کی کہ احمدیوں نے خدام الاحد یہ سپورٹس ریلی کے موقعہ پر لاؤڈ سپیکر پر درود شریف پڑھا اور آیات قرآنی کی تلاوت کی ہے۔اس لئے ان کے خلاف تعزیری کارروائی کی جائے۔سانگھڑ سندھ کے ایک احمدی کے خلاف مقدمہ زیر دفعہ C/295 اور C/298 درج کیا گیا۔ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے اپنے گھر کی دیوار پر آليْسَ اللهُ بِكَافٍ عبد لکھا ہوا تھا۔18 / اپریل 1988ء کو جھنگ کے ایک احمدی کی دکان پر علاقہ مجسٹریٹ نے چھاپہ مارا اور ان کے خلاف دکان کے شوکیس کے شیشہ پر کلمہ طیبہ کا سٹیکر لگانے کے جرم میں زیر دفعہ B/295 مقدمہ درج کر دیا۔اس مقدمہ میں مجسٹریٹ خود مدعی تھا۔ایک مقدمہ میں ایک احمدی کا جرم یہ قرار دیا گیا تھا کہ انہوں نے رمضان المبارک میں سحری اور افطاری کا ٹائم ٹیبل شائع کیا اور اس پر کلمہ طیبہ اور مسجد نبوی کی تصویر کے علاوہ روزہ رکھنے اور کھولنے کی دعائیں بھی شائع کیں۔ایک احمدی دوست بس پر سوار ہوئے۔بس میں سوار چار نوجوانوں نے ان کے ہاتھ پر کلمہ طیبہ والی انگوٹھی دیکھ کر ان سے پوچھا کہ تم قادیانی ہو؟ انہوں نے بتایا کہ وہ احمدی ہیں۔نوجوانوں نے انہیں کہا کہ انگوٹھی اتار دو کیونکہ غیرمسلم کلمہ طیبہ والی انگوٹھی نہیں پہن سکتا۔ان کے انکار پر نوجوانوں نے زبردستی انگوٹھی اتارنے کی کوشش کی۔چنیوٹ تک یونہی تکرار ہوتی رہی۔وہاں نو جوانوں نے اس احمدی کو بس سے اتار لیا۔جی بھر کر گالیاں دیں اور مارتے ہوئے تھانہ کی طرف لے گئے۔پولیس افسران نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ ربوہ کا کیس ہے لہذا اس احمدی کو دوبارہ ربوہ لایا گیا جہاں تھانہ میں ان کے خلاف کلمہ طیبہ کی انگوٹھی پہنے اور تبلیغ کرنے کے جرم میں زیر دفعہ B/298 اور C/298 مقدمہ درج کیا گیا۔ایک مقدمہ میں غیر احمدی مولوی کی طرف سے یہ جرم بیان کیا گیا کہ 29 دسمبر 1988ء کے الفضل میں اسلامی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ایک مرتدہ کافرہ کے لئے دعائے مغفرت اور مرحومہ کا لفظ لکھا گیا ہے۔ان الفاظ سے قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے اور جرم کا ارتکاب کیا ہے۔“