سلسلہ احمدیہ — Page 45
45 قرار دیتے ہیں۔خود اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی تقدیر جس رنگ میں ظاہر ہوئی اور وہ عبرت کا نشان بنا، اس کا بھی کسی قدر ذ کر کتاب میں اگلے صفحات میں آئے گا۔الغرض جب سے جنرل ضیاء نے پاکستان میں اسلام کے نام پر اسلام کی جڑیں کاٹنے والا یہ ظالمانہ آرڈینس جاری کیا ہے اس ملک کو ہر طرف سے بلائیں آکے گھیر تی چلی گئیں۔اور جیسا کہ حضرت خلیفہ اسی الرابع رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 27 ستمبر 1991ء میں فرمایا تھا : کوئی انسانی زندگی کا ایسا پہلو نہیں ہے جس میں امن رہ گیا ہو۔کوئی انسانی تعلقات کا دائرہ نہیں ہے جو گندہ نہ ہو چکا ہو۔ہر وہ شہری جو پاکستان میں کسی پہلو سے زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے کوئی نہ کوئی حقوق کسی اور نے سلب کئے ہوئے ہیں۔اگر کسی شخص نے نہیں کیے تو حکومت نے سلب کیے ہیں۔حکومت نے نہیں کیے تو کسی قوم نے کرلئے ہیں۔کسی نہ کسی پہلو سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ آزادی سے سانس نہیں لے رہا۔مجبور اور بے اختیار ہے اور بے بس ہے اور ظلم اتنا پھیل گیا ہے، اتنا گہرائی میں جاچکا ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی عزت بھی محفوظ نہیں۔معصوم بچیوں کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی۔اغوا ہو رہے ہیں۔۔۔چوری ، آچکا پن، ڈاکے، بددیانتی ، عدالتوں میں جھوٹ، کوئی ایک سلسلہ بھی پاکستانی زندگی کا ایسا نہیں رہا جہاں اسلام جاری و ساری دکھائی دیتا ہو۔اور کثرت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی علامات ظاہر ہوتی چلی جارہی ہیں۔۔۔بدیوں اور معاصی اور بے اطمینانی اور بدامنی کا ایک سیلاب ہے جس میں ساری قوم غرق ہوئی پڑی ہے اور ان کو علم نہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے افراد پر مقدمات کی ایک جھلک (ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ 27 /ستمبر 1991ء) پاکستان میں آرڈینس 20 کے اجراء کے بعد افراد جماعت احمدیہ پر مختلف نوعیت کے ہزاروں مقدمات درج کروائے گئے۔کئی مقدمات میں احمدیوں کو سزائیں سنائی گئیں۔بیشتر مقدمات ایسے ہیں جو گنتی کے چند بدبخت مولویوں کی شکایت پر پولیس نے درج کئے۔مثلا کسی مولوی