سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 46 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 46

46 نے جماعت احمدیہ کی مسجد پر کلمہ طیبہ لا إله إلا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ تحریر شدہ دیکھا تو جھٹ پولیس میں شکایت کی کہ کلمہ کو دیکھ کر اس کے مذہبی جذبات مجروح ہو گئے ہیں۔یا کسی احمدی کے سینہ پر کلمہ طیبہ کا بیج سجا دیکھا یا ہاتھ میں آلیس اللهُ بِكَافٍ عبده والی انگوٹھی دیکھی یا منہ سے السّلامُ عَلَيْكُمْ یا درود شریف سُنا، یا قرآنی آیات کی تلاوت اس کے کان میں پڑی تو فورا ان کی رگ شرارت پھڑ کی اور انہوں نے تھانے کا رُخ کیا کہ احمدی نے ان حرکات سے خود کو مسلمان ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ٹیوں بھی ہوا کہ ان بد بختوں نے جماعت کے اخبار روز نامہ الفضل یا دیگر احدی جرائد پر کوئی قرآنی آیت تحریر شدہ دیکھی یا ان میں درج حدیث شریف پڑھی یا کسی وفات یافتہ شخص کے ساتھ مرحوم یا مرحومہ کا لفظ لکھا ہوا دیکھایا پھر کسی احمدی کے خط کے اوپر بسم اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ کے الفاظ پڑھے تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور طیش میں آگئے کہ احمدی اللہ کا نام کیوں لے رہا ہے، اسلامی اصطلاحیں کیوں استعمال کر رہا ہے اور ان کے خلاف تھانہ میں رپٹ درج کروا کے ہی دم لیا۔پھر ایسا بھی ہوا کہ کسی احمدی کو حوالات میں بند کرا دیا گیا۔تھانہ میں علاقہ کے بڑے مولوی پہنچے اور دباؤ ڈالا کہ اس شخص سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔عدالتوں کا گھیراؤ کیا کہ احمدیوں کی ضمانت نہیں ہونے دی جائے گی وگرنہ وہ علاقہ میں امن کا مسئلہ کھڑا کر دیں گے۔جیل میں بند دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجائی گئیں۔آوازے کے گئے۔بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خلاف شدید دشنام طرازی سے کام لیا گیا اور یوں اپنی دانست میں اسلام کی عظیم خدمت سر انجام دی گئی۔اُدھر جب نماز کا وقت آیا اور احمدی نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے کپڑا بچھا کر قبلہ رو ہو کر نماز ادا کرنا شروع کر دی تو یہ دیکھ کر مولویوں نے ایک بار پھر اودھم مچایا۔پولیس کے سپاہیوں کے پیچھے دوڑے، ان کو خوب صلواتیں سنائیں کہ غضب خدا کا یہ شخص تمہاری تحویل میں ہے اور قبلہ رو ہو کر نماز ادا کر رہا ہے اور تم اس کو بالکل منع نہیں کر رہے۔پولیس کے سپاہیوں نے احمدی کو دھمکیاں دیں۔ہم تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے۔قرآن مجید کی