سلسلہ احمدیہ — Page 44
44 احمدیوں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ جماعت احمدیہ کی مخالفت ہوئی ہو اور اس کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ کمزور ہوئی ہو۔اور اتنی ذلیل اور کمینی اور اتنی ظالمانہ مخالفت آج تک کبھی نہیں ہوتی۔اس لئے لاز منا خدا کی تقدیر نے اسے بہانہ بنانا ہے اپنے فضلوں کا۔اور ایسے فضل فرمائے گا کہ آپ کے تصور میں بھی نہیں آسکتے۔اسی طرح آپ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جون 1984ء میں فرمایا: دشمن تو ہمیں مارنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ہمیں کچھ اور نظر آرہا ہے۔بالکل الٹ نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔زیادہ قوت، زیادہ شان کے ساتھ جماعت آگے بڑھ رہی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح ہمیشہ دشمن کو اس کی مخالفت اس کی توقع سے بہت زیادہ مہنگی پڑی ہے یہ مخالفت، اتنی مہنگی پڑے گی، اتنی مہنگی پڑے گی کہ نسلیں ان کی پچھتائیں گی جو دشمن رہیں گی۔اور آپ کی نسلیں دعائیں دیں گی ایک وقت آکر ان لوگوں کو جن کی بے حیائی کے نتیجہ میں اللہ نے اتنے فضل ہمارے اوپر فرماتے ہیں۔ایک یہ بھی طریق ہوتا ہے جواب کا کہ ہم دعا دیتے ہیں ظالم مجھے کہ تیرے ظلم کے نتیجہ میں اتنے فضل خدا نے ہم پر نازل فرما دیئے۔“ 66 خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 292-293) اس کتاب میں دورِ خلافت رابعہ میں جماعت احمدیہ کی ترقی اور جماعت پر موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح برسنے والے اللہ تعالیٰ کے لامتناہی فضلوں میں سے چند بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں جو خلافت احمدیہ کی حقانیت اور اسلام احمدیت کی صداقت پر روشن گواہ ہیں۔مخالفین کا خیال تھا کہ یہ جماعت اس ظالمانہ قانون کے سامنے جھک جائے گی اور اسلام سے اپنا ناطہ توڑلے گی لیکن خدا نے ہر پہلو سے جماعت احمدیہ کو برکت عطا فرمائی اور سرفراز فرمایا۔جبکہ وہ ملک جہاں یہ ظالمانہ آرڈیننس جاری کیا گیا وہ دینی، دنیاوی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی ہر لحاظ سے دن بدن تنزل اور انحطاط کا شکار ہوتا چلا گیا۔اور وہ شخص جس نے یہ ظالمانہ آرڈینس جاری کیا تھا آج کے دانشور اس کا نہایت ذلت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور اسے ملک میں رائج تمام برائیوں کا ذمہ دار