سلسلہ احمدیہ — Page 663
663 مکرم نذیر احمد صاحب خادم بہاولنگر (پاکستان) سے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں اپنے خط محررہ 19 اگست 1997ء میں لکھتے ہیں کہ چک 168 مراد ضلع بہاولنگر کا ایک شخص منیر کمبوہ کچھ عرصہ پہلے جگہ جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں یہ گستاخانہ بات دہراتا رہتا تھا کہ حضور نعوذ باللہ علی خانے میں مرے۔کچھ عرصہ قبل وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کراچی گیا۔کراچی سے واپسی پر راستہ میں 3 اگست 1997ء کو بہاولپور شہر کے لاری اڈہ ( بس سٹینڈ ) پر گھر آنے کے لئے بس کے انتظار میں یہ لوگ بیٹھے تھے کہ اچانک منیر کمبوہ نے کہا کہ میرے پیٹ میں تکلیف ہے۔یہ کہہ کر وہ لاری اڈہ کی لیٹرین کے اندر چلا گیا۔کوئی بیس پچیس منٹ کے انتظار کے بعد اس کے ساتھیوں نے گھبرا کر پہلے اسے آوازیں دیں۔جب جواب نہ ملا تو زور زور سے دروازہ پیٹا۔پھر بھی جواب نہ آیا تو لاری اڈہ والوں سے بات کر کے دروازہ توڑا تو دیکھا کہ منیر کمبوہ بھی خانہ کے اندر ننگ دھڑنگ مردہ حالت میں پڑا ہے۔چنانچہ اس کے ساتھی اس بدبخت کی لاش اس کے گھر لائے جس سے گھر والوں میں کہرام مچ گیا اور یوں 30-32 سالہ نوجوان سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا قہری نشان عبرت بن کر خس کم جہاں پاک ہوا۔سندھ کے ایک ملاں میاں حمادی کی ظالمانہ کارروائیوں کا قبل ازیں مختصر ذ کر اس کتاب میں گزر چکا ہے۔اس کا ایک ساتھی ایڈووکیٹ حشمت حبیب احمدیوں کے خلاف میاں حمادی کے قائم کردہ جھوٹے مقدمات میں اس کی طرف سے پیش ہوتا تھا اور جماعت کے خلاف نہایت گندی بکواس کرتا تھا۔ستمبر 1997ء کے آغاز میں اس کی بیٹی Huzaima کی پر اسرار موت کی ایک نہایت عبرتناک کہانی اخبارات میں شائع ہوئی۔مکرم نذیر احمد باجوہ صاحب نے ساہیوال (پاکستان) سے لکھا: ہمارے ضلع میں ایک نہایت بد باطن شخص جو احمدیت کا سخت معاند تھا اور طرح طرح سے احمدیوں کو ستایا کرتا تھا اس نے چک 1 6/11 میں بلا وجہ احمدیوں سے لڑائی کی اور فائرنگ کر کے ایک احمدی صوفی ثناء اللہ صاحب کو شدید زخمی کر دیا اور ان کی ٹانگ بھی ضائع ہو گئی۔اور بھی کئی قسم کے