سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 664 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 664

664 مقدمات احمدیوں پر ناحق بنائے۔وہ اپنی شرارتوں میں بہت بڑھ گیا تھا۔خدا تعالیٰ کا غضب اس پر پڑا۔مورخہ 12 مرا کتوبر 1997ء کو وہ اپنے رقبہ میں پہلی بنوا رہا تھا۔اس کے بیٹے نے کہا کہ پلی اونچی ہے۔اوپر بجلی کے تار ہیں۔ٹرالی نہیں گزرے گی۔اس معاند احمدیت کا نام یوسف مفکر تھا۔اس کے ہاتھ میں لمبائی ناپنے کا لوہے کافیتہ تھا۔اس نے فیتہ کا بٹن دبایا اور وہ فیتہ تیزی سے نکل کر اوپر گیا اور ہائی وولٹیج بجلی کی تاروں سے ٹکرایا۔ایک سخت دھماکہ ہوا اور اس کو بہت سخت شاک لگا۔فورا اس کے منہ، سر، داڑھی اور کپڑوں میں آگ لگ گئی۔وہ بری طرح جھلس گیا اور بیہوش ہو گیا۔اسے فورا ساہیوال ہسپتال لے گئے۔ڈاکٹروں نے جواب دے دیا اور اسے لاہور لے گئے مگر وہ جانبر نہ ہوسکا اور نہایت ذلت کی موت مرا۔یہ واقعہ چک نمبر 1-6/11 میں ہوا۔حضور رحمہ اللہ نے حج کے موقع پر لگنے والی آگ کے جس واقعہ کا ذکر اپنے خطاب میں فرمایا ہے اس بارہ میں ڈیر غازیخان سے ایک کو احمدی دوست گل محمد ولد محمد رمضان طارق صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ( گل محمد ولد محمد رمضان طارق) مورخہ 30 / اپریل 1997ء کو ایک مجلس میں موجود تھا۔مکرم حاجی محمد صاحب حج سے واپسی کے بعد اپنے احباب کو وہاں کے واقعات سنار ہے تھے۔انہوں نے بتایا کہ میں وہاں موجود تھا جب مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد اوچ شریف کے پیر صاحب کے مریدا کٹھے ہوئے جن کی تعداد تقریبا بارہ تھی۔سب نے مل کر غلاف کعبہ کو پکڑ کر یہ بددعا کی کہ اے خدا اگر قادیانی سچے ہیں تو ہمیں اور اگر ہم بچے ہیں تو ان قادیانیوں کو تباہ برباد کر۔اگلے دن ان کی اس مسلسل دعا کے نتیجہ میں منی کے خیموں میں آگ لگ گئی۔بہت سے خیمے جل گئے لیکن ایک خیمہ بچ گیا جس کے بارہ میں معلوم ہوا کہ یہ احمدیوں کا خیمہ ہے جن کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ان آدمیوں کے سواسینکڑوں لوگ اور بھی وہاں موجود تھے۔مکرم گل محمد صاحب نے مذکورہ حاجی صاحب سے یہ واقعہ سننے کے بعد احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔مکرم جہانگیر محمد جو نیہ صاحب ایڈووکیٹ خوشاب حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں لکھتے ہیں کہ مورخہ