سلسلہ احمدیہ — Page 653
653 تھی۔اس رویا کو آپ سنیں تو آپ حیران رہیں گے کہ کس طرح خدا تعالی نے آسمانی تائید کے ذریعے اس نشان کو ایک احمدیت کا نشان پہلے سے قرار دے رکھا تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ: ایک علاقہ جو کہ قادیان یار بوہ جیسا ہے وہاں پر اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں۔وہاں ایک طرف مکان مشرقی طور پر بنے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مغربی ممالک کی طرح کی بلڈنگیں ہیں، گویا احمدیت دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ایک طرف مشرق کے مکان میں مشرقی طرز کے اور ایک طرف مغرب کے مکان مغربی طرز کے ہیں۔یہ دونوں قسم کے علاقے آپس میں ملے ہوئے ہیں یعنی ان کے درمیان آپس میں ایک تعلق اور رابطہ بھی قائم ہے۔میں کیا دیکھتا ہوں ایک مولوی جس کا رنگ کالا سیاہ ہے اور کالی داڑھی اور موچھیں ہیں، سر سے ننگا ہے اور طعنے کے طور پر یہ مصرعہ پڑھ رہا ہے جیسے کسی کو تنگ کرنے کی خاطر یا دل آزاری کے لئے پڑھا جاتا ہے جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مصرع ہے اور آپ نے ان علماء کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ دیکھو ئیں خدا کا ہوں اسے للکارنا اچھا نہیں۔وہ طعن کے طور پر بار بار یہ مصرع پڑھتا ہے جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہیں، ہاتھ میں چھڑی ہے اور وہ مولوی ایک دفعہ پھر یہ شعر طعن کے طور پر پڑھتا ہے جیسا کہ وہ حضور کو للکار رہا ہو۔حضور پہلے تو خاموش کھڑے رہے۔پھر اپنی جگہ سے ذرا ہٹ گئے اس مولوی کو صاف طور پر دیکھنے کی خاطر۔جیسا کہ اس کو ٹھیک طرح سے دیکھنا اور پہچاننا چاہتے ہیں۔پھر آپ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے رعب سے یہ دوسرا مصرعہ پڑھا ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے رو بہ زار و نزار یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جواب سن کر یہ جلدی سے اس کی طرف لپکتے ہیں اس کو دیکھنے اور پہچانے کی خاطر اور اس خیال سے کہ کہیں وہ شرارت میں کوئی حملہ نہ کرے۔مولوی کی دل آزاری سے، کہتے ہیں، میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کے