سلسلہ احمدیہ — Page 597
597 کے اندیشے دل کو لگا رکھے تھے جن کے متعلق خدا آسمان سے بار بار گواہی دیتا تھا کہ اس دنیا کے غم میں تو اپنے آپ کو بلاک کرلے گا۔پس اگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے کسی کو سچا پیار ہے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ دنیا کے اندیشے دل کو نہ لگا بیٹھے۔یہ اس کے لئے فطرت کا ایک طبعی تقاضا ہے، اس کے سوا کوئی طریق کار ہی میسر نہیں ہے۔پس اگر احمدی حضرت اقدس محمد مصطفیٰ م کی محبت میں سچا ہے تو اسے لازمتا یہ اندیشے دل کو لگانے ہوں گے بلکہ اس کے بغیر اس کا محمد رسول اللہ ﷺ سے تعلق ہی سچا ثابت نہیں ہو سکتا۔پس یہ مجبوریاں ہیں۔ہم نے تو یہ کام کرنا ہی کرنا ہے۔ہمیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کام سے روک نہیں سکتی۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 8 جنوری 1993ء۔خطبات ظاہر جلد 12 صفحہ 24-25) بوسنیا کے مظلوموں کے لئے امداد کی تحریک پھر 29 جنوری 1993ء کو بوسنیا کے مظلوموں کی مالی اور اخلاقی امداد کے لئے حضور نے تحریک فرمائی جس پر جماعت نے لبیک کہا اور فوری طور پر 78 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم پیش کی۔حضور رحمہ اللہ نے اس بارہ میں 29 جنوری 1993ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: بوسنیا کی تحریک میں اس وقت تک جو Response یعنی اپیل کے جواب میں لٹھیک کہا گیا ہے وہ 78 ہزار 672 پاؤنڈ ہے مگر یہ بہت ہی کم ہے۔اتنے دردناک حالات ہیں اور اتنی بڑی ضرورت ہے کہ جو جہاد کرنے والے ہیں ان کے لئے ان کے پاس نہ بوٹ ہیں، نہ گرم کپڑے ہیں۔بہت ہی درد ناک حالت میں وہ دین کی خاطر یہ بڑا دردناک جہاد کر رہے ہیں۔تو جماعت احمدیہ کو انفرادی طور پر یا جماعتی طور پر جسمانی لحاظ سے جہاد میں شرکت کی توفیق نہیں ہے تو مالی لحاظ سے تو کر سکتی ہے۔چنانچہ ہم بڑے وسیع پیمانے پر رابطے بڑھا رہے ہیں۔بعض ملکوں میں پچاس پچاس ہزار بوسنین مہاجرین ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اپنی ضرورت بتاؤ تو وہ بوسنیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں پر خرچ کرو جو بڑی عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔وہاں جب میں نے وفد بھیجوانے شروع کئے یعنی جماعت کو تو فیق ملی تو ایک رپورٹ آئی کہ اس میں کچھ جرمن نیک دل لوگ بھی شامل ہو گئے اور جماعت کے نمائندوں نے ٹرک لیا اور مال لے کر وہاں پہنچے تو کہتے ہیں کہ اتنے دردناک حالات تھے کہ وہ جرمن جو غیر مسلم