سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 598 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 598

598 تھے ان کی چیخیں نکل گئیں۔سخت سردی میں معصوم بچوں نے جن کے پاس چھوٹے بوٹ تھے انہوں نے آگے سے بوٹ کاٹ کرتا کہ پاؤں کو آگے سے اچھے نا اور پنجہ دیے نا، آدھا پاؤں باہر نکلا ہوا تھا اور کپڑے پورے نہیں تھے فاقوں کا شکار۔کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ یہ اثر ہمارے دل پر اس وقت ہوا جب ہم نے کہا کہ ہمیں اور بتاؤ کہ تمہیں کیا ضرورت ہے ہم پھر آئیں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہماری طرف نہ آوان مجاہدوں کی طرف جاؤ جو بڑے دردناک حالات میں پہلے لڑ رہے ہیں اور ان کی مدد کرو تو جماعت کو اس سلسلہ میں دل کھول کر آگے قدم بڑھانا چاہئے۔" ) خطبه جمعه فرموده 29 جنوری 1993ء - خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 95-96) چنانچہ اس کے بعد بھی انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر بھی مظلوموں کی ہر سطح پر امداد کی گئی اور خطیر رقم اس غرض سے خرچ کی گئی۔ہو میو پیتھی طریق علاج کے ذریعہ خدمت خلق جماعت احمدیہ میں ہو میو پیتھی کو متعارف کرانے کا سہرا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے سر ہے۔آپ نے فروری 1923ء میں احمدی خواتین کو معلومات افزا لیکچر دیتے ہوئے ہو میو پیتھی کا تذکرہ فرمایا اور کئی احمدیوں کو اس طریق علاج کی طرف توجہ پیدا ہو گئی اور انہوں نے بیسیویں صدی کے چوتھے عشرہ میں پرائیویٹ کلینک بھی کھول لئے۔وقف جدید کی ڈسپنسری دسمبر 1956ء میں ربوہ میں فضل عمر ہو میو پیتھک ریسرچ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا جس کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد تھے۔1960ء میں آپ نے ہومیو پیتھی کی مفت ادویہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔آغاز میں آپ نے یہ کام گھر میں جاری کیا۔1968ء میں وقف جدید میں با قاعدہ ڈسپنسری کے قیام تک آپ تمام اخراجات خود برداشت کرتے تھے۔وقف جدید میں آپ کے علاج سے ہزاروں مریض فیض یاب ہوئے اور آپ نے بہت سی بیماریوں کے متعلق نئے نئے تجربات کئے جن میں خدا نے آپ کو کامیابی عطا فرمائی۔(اس کی کسی قدر تفصیل آپ کی کتاب ”ہو میو پیتھی یعنی علاج بالمثل میں موجود ہے)