سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 596 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 596

596 پس زندہ پیغام کی یہ نشانی ہوتی ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج دنیا غیر انسانی ہوتے ہوئے بھی انسانیت کے لئے ترس رہی ہے۔اس کی گہری فطرت کی یہ آواز ہے کہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔پس جب احمدی یہ آواز بلند کرے گا تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔یہ آواز تو دل سے اٹھے گی اور ضرور دل میں جابیٹھے گی اور پھر وہاں نشود مما پائے گی اور پھوٹے گی۔پھر اپنے دائیں بائیں دوسرے غیر انسانی لوگوں کو انسان بنانے کے لئے کوشاں ہو جائے گی۔( خطبہ جمعہ فرمودی یکم جنوری 1993ء۔خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 141) اس سلسلہ میں اسی خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ نے متعدد ملی اقدامات بھی تجویز فرمائے اور نہ صرف افراد جماعت احمد یہ عالمگیر کی رہنمائی فرمائی بلکہ اقوام عالم اور مختلف سیاسی و مذہبی لیڈرز کو بھی نہایت اہم اور مفید مشوروں سے نوازا۔پھر اسی مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 8 جنوری 1993ء کے خطبہ جمعہ میں بھی بہبود انسانی کے لئے کام کرنے کی اہمیت اور اس کے لئے اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق تمام صلاحیتوں کو بروئے کارلانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: جب جماعت احمد یہ سب دنیا کے غم کی باتیں کرتی ہے۔سب دنیا کے فکر دل سے لگا کر ان کی اصلاح کی کوشش کرتی ہے تو بہت لوگ تعجب کرتے ہیں کہ ان کی حیثیت کیا ہے، طاقت کیا ہے، یہ کیسے دنیا کے حالات بدل سکتے ہیں۔اور بہت سے احمدی دانشور بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ہاں سمندر میں ایک قطرہ زائد ڈالنے والی بات ہے ورنہ تو کوئی حیثیت نہیں ہے اور بعض یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ ہمیں وہ کام سہیڑنے کی ضرورت کیا ہے جس کام کی ہم میں طاقت نہیں۔تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ہماری فطرت میں اگر یہ بات ہو کہ کسی کا غم محسوس کریں اور کسی کا دکھ ڈور کرنے کی کوشش کریں تو ہم مجبور ہیں۔اس میں عقل کا قصہ نہیں، دل کی مجبوریوں کی بات ہے۔ایک شخص جو ہمدرد ہو وہ کسی جگہ کسی کو تکلیف میں دیکھتا ہے تو طبعا اس کے دل میں ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور بے اختیار قدم اس طرف اٹھتے ہیں تا کہ اس کی تکلیف کو دور کیا جائے۔ہمیں تو اس سے بہت زیادہ بڑھ کر بنی نوع انسان سے محبت ہے اس لئے کہ ہم حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں۔ہم تو اس آقامحمد مصطفی ﷺ کے غلام ہیں جس نے گل حالم