سلسلہ احمدیہ — Page 573
573 بھی کچھ کم نہیں۔ان میں عبادت سے تعلق رکھنے والی بھی ہیں اور خدمت خلق کے دوسرے تقاضوں کو پورے کرنے والی بھی اتنی زیادہ ہیں کہ ہم اپنی خواہش کے مطابق فی الحال غربا کی ہمدردی میں اتنا خرچ نہیں کر سکتے جتنا کہ ہماری تمنا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہماری توفیق کو۔انشاء اللہ بڑھاتا چلا جائے گا اور جوں جوں تو فیقی بڑھے گی ہم اس میدان میں بھی آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔میرے دل کی یہ خواہش ہے کہ ساری دنیا میں ہمدردی کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہمدردی کا عملی اظہار جماعت احمدیہ کی طرف سے ہو اور دنیا میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ موسیٰ " کی جماعت نے بنی نوع انسان کی یہ خدمت کی اور عیسی کی جماعت نے یہ خدمت کی اور محمد مصطفی میں کی جماعت نعوذ باللہ پیچھے رہ گئی۔اس لئے جہاں تک مذاہب کے مقابلہ کا تعلق ہے فَاسْتَبِقُوا الخيرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میرے دل میں خدا تعالی نے اس معاملہ میں بے انتہا جوش پیدا کیا ہے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ایسے عظیم الشان کام سر انجام دے جو اپنی وسعت کے ساتھ اپنی شدت میں بھی بڑھتے رہیں یہاں تک کہ جماعت احمد یہ ساری دنیا میں بنی نوع انسان کی سب سے زیادہ ہمدردی رکھنے والی اور ہمدردی میں عملی قدم اٹھانے والی جماعت بن جائے اور آنحضرت ﷺ کے دین کو اس پہلو سے بھی ساری دنیا کے ادیان پر غلبہ نصیب ہو جائے۔“ آپ نے فرمایا: خطبات طاہر جلد دوم صفحہ 572، 573 / خطبه فرمودہ 11 نومبر 1983ء) اس سکیم کو ئیں وسعت دینا چاہتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ جلسہ جو ہلی تک ہم کم از کم ایک کروڑ روپے کی لاگت سے مکان بنا کر غربا کو مہیا کر دیں یعنی جماعت کے جو سو سال گزررہے ہیں ان کے ہر سال پر صرف ایک لاکھ روپیہ اگر ہم ڈالیں تو ایک کروڑ بن جاتا ہے اور پھر بعد میں انشاء اللہ ایک کروڑ مکانات بھی ہوں گے لیکن فی الحال ایک کروڑ روپے کی تحریک کی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ: ( خطبات طاہر جلد دوم صفحه 575 / خطبہ فرمودہ 11 نومبر 1983ء)