سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 572 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 572

572 میں مسجد بشارت کا گھر بنانے کی جو توفیق ملی ہے اس کا بہترین شکریہ کا اظہار یہ ہے کہ خدا کے بندوں کے بھی گھر بناؤ اور وہ غریب جو اپنی ساری کوشش کے باوجود بمشکل زندہ ہیں ان کے لئے سر چھپانے کا کم از کم سامان مہیا کرنے کی کوشش کرو۔چنانچہ اس سلسلے میں بہوت المحمد منصوبہ کا اعلان کیا گیا روزنامه الفضل ربوه 22 مئی 1983ء) 1983ء میں حضور انور رحمہ اللہ جب مشرق بعید کے ممالک کے دورہ کے دوران سڈنی (آسٹریلیا) میں مسجد بیت الاوّل کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد واپس تشریف لائے تو 11 / نومبر 1983ء کو مسجد اقصی ربوہ میں خطبہ جمعہ کے دوران بیوت الحمد سکیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اب مسجد آسٹریلیا کی بنیاد ڈالنے کی توفیق ملی ہے تو میں اسی تحریک کو دہرانا چاہتا ہوں۔اب یہ تحریک میرے ذہن میں نسبتاً زیادہ وسعت اختیار کر چکی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر سال مساجد کی تعمیر کی توفیق دیتا ہی چلا جا رہا ہے اور عبادت کرنے والے بھی دن بدن جماعت احمدیہ میں بڑھ رہے ہیں اس لئے عبادت کے دوسرے پہلو کا حق بھی ساتھ ساتھ اسی طرح ادا ہوتے رہنا چاہئے۔چنانچہ غربا کی ہمدردی میں جو مختلف تحریکات جماعت احمدیہ میں جاری ہیں اور ہمیشہ سے جاری ہیں ان میں ایک بیوت الحمد کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کی یہ تعلیم مکمل ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کا جو تصور عطا فرمایا تھا اس کا خلاصہ یہی تھا جسے آج کل کی زبان میں روٹی، کپڑا اور مکان کہتے ہیں اور یہ وہ تعلیم ہے جسے انسان نے اپنی ترقی کی انتہا پر جا کر سکتا ہے۔لیکن قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خدا نے آدم کو جب تہذیب سکھانی شروع کی تو اس کے آغاز میں پہلی تعلیم ی تھی کہ جنت کا تصور یہ ہے کہ اس میں روٹی کپڑا اور مکان مہیا ہونے چاہئیں۔چنانچہ جب مکانوں کی طرف بھی جماعت احمد یہ پوری طرح توجہ کرے گی تو جنت کا وہ کم از کم تصور جو بنی نوع انسان کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے اسے مکمل کر لے گی۔اس میں اضافے ہوں گے اور ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ آنحضرت نے جو تعلیم دی ہے اس نے اس میں بہت ہی زیادہ حسن پیدا کر دیا ہے اور بہت ہی وسعت پیدا کر دی ہے۔لیکن جیسا کہ تمام احباب جماعت کو علم ہے کہ ہم پر دوسری ذمہ داریاں