سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 515 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 515

515 خطرہ در پیش آجا تا تومعمولی نقصان نہیں تھا بلکہ لکھو کہا جائیں تلف ہو سکتی تھیں۔پچاس فٹ اونچی سمندر کی ہر تھی جو تقریبا سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کراچی کی طرف بڑھ رہی تھی اور یہ جو اخبارات میں نے دیکھتے ہیں ان میں لکھا ہے کہ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ سو میل یا اس سے زائد اس کے پیچھے رہ گئی تھی جب رخ پلٹتا ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ صرف پچاس میل قریب آکر یعنی نصف گھنٹہ کا فرق رہ گیا تھا تو پھر وہ مڑی ہے اور جو تنبیہات کی گئیں ان میں صبح دس بجے کے وقت اس کا پہنچنا بھی بتایا گیا تھا کہ اگر یہ پہنچ جاتا تو صبح دس کے لگ بھگ اس نے کراچی کو Hit کرنا تھا۔اب پچاس فٹ اونچی سمندری لہریں جو سو میل کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہوں اس نے تو کراچی کے میل بامیل تک کلیۂ صفایا کر دینا تھا۔اس علاقے سے نام ونشان شہر کے مٹ جانے تھے۔تو اس لئے جو سمجھ دار ہیں جو صاحب دل لوگ ہیں وہ مجھے خط لکھتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے فضل فرمایا اور ایک نشان پورا بھی فرما دیا، ہماری سرخروئی بھی کر دی اور بنی نوع انسان کو ایک بڑے دکھ سے بھی بچا لیا۔لیکن بعض نوجوان بیچارے جو یہ حکمتیں نہیں سمجھتے یا پوری تربیت نہیں رکھتے، بہت چند ہیں گنتی کے ہنگر انہوں نے یہ لکھا کہ اللہ میاں نے جب یہاں تک پہنچادیا تھا تو آگے تک جاتے کیا تکلیف تھی۔پچاس میل رہ گیا تھا۔خدا کو آگے کیا حرج تھا آگے کر دیتے تو پھر ذرا اور ہوتا۔ان کو اندازہ نہیں کہ دکھ کیا چیز ہے اور قومی دکھ کیسے کیسے خوفناک نتائج پیدا کرتا ہے۔اور ان کو پتہ نہیں کہ اللہ رحیم و کریم ہے۔نشانات ظاہر ہوتے ہیں اور ہمیشہ ہوتے رہیں گے لیکن جن کی خاطر نشان ظاہر ہوتے ہیں ان کا دل نشانات کے ظاہر ہونے سے زیادہ قوم کی ہمدردی میں مبتلا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا جو صحابہ کی روایات سے ثابت ہے کہ بعض موقع پر جب ایک شدید معاند کی ہلاکت کی آپ نے خبر دی اور وہ دن قریب آرہا تھا تو صحابہ ساری ساری رات اٹھ کر روتے اور گریہ وزاری کرتے تھے کہ اے خدا یہ نشان ظاہر فرمادے۔پکڑا جائے ، پکڑا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو رات بھر یہ دعائیں کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو بچالے۔نہ پکڑا جائے ، نہ پکڑا جائے ، نہ پکڑا جائے اور ہدایت نصیب ہو جائے۔حضور نے فرمایا: