سلسلہ احمدیہ — Page 475
475 غریبوں، بیواؤں، یتیموں اور ناداروں میں تحائف کی تقسیم جشن تشکر کی خوشیوں میں بیواؤں، یتیموں، ناداروں اور معذوروں کو شامل کرنے کے لیے محض رضائے باری تعالیٰ کی خاطر دنیا بھر میں کثرت کے ساتھ افراد جماعت نے ذاتی طور پر اور بہت سے مقامات پر اجتماعی طور پر اجتماعی صدقات و خیرات کا اہتمام کیا۔کئی مقامات پر ایسی دعوتوں کی تقریبات منعقد کی گئیں جن میں علاقہ کے غرباء ویتامی و بیوگان کو خصوصیت سے شرکت کی دعوت دی گئی۔بعض چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے اپنے پورے گاؤں کے ایسے مستحق افراد تک کھانا اور جشن تشکر کے سلسلہ میں مٹھائی اور دیگر تحائف تقسیم کیے۔اسی طرح یتیم خانوں اور ہسپتالوں میں تحائف دیے گئے اور یوں ایسے ہزار ہا افراد کو جشن تشکر کی خوشی میں شامل کیا گیا۔م سیرالیون میں نادار اور غریب افراد کے لیے جماعت کی طرف سے منسٹر آف سٹیٹ فار سوشل ویلفیر ( مادام ایم کونٹے ) کو عطیہ پیش کیا گیا تو انہوں نے تحفہ وصول کرتے ہوئے کہا: میں آج عزت مآب صدر مملکت کی نمائندگی میں جماعت احمدیہ کی طرف سے اس عظیم اور نہ بھولنے والی قربانی پر مشن کا شکر یہ ادا کرتی ہوں۔احمد یہ مشن آج سرزمین سیرالیون میں اپنی خدمات کی وجہ سے جانا پہچانا مشن ہے۔وہ طبقی اور تعلیمی میدانوں میں ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر کام کر رہا ہے۔جہاں تک غریب لوگوں کی خدمت کا تعلق ہے تو ہر ایک سمجھدار اور ملک کا وفادار جماعت احمدیہ کی خدمات کو قدر کی نگاہوں سے دیکھے گا۔“ آئیوری کوسٹ میں ایک یتیم خانہ میں جماعت کی خدمت کو عجیب رنگ میں سراہا گیا۔جماعت کا وفد جب مخالف کے ساتھ یتیم خانہ پہنچا تو عجیب اتفاق ہوا کہ اس وقت یتیم خانہ کا انچارج ایک عیسائی کن کے ساتھ یتیم خانہ کے مسائل پر گفتگو کر رہا تھا کہ یتیم خانہ تو قائم کر دیا ہے اب عیسائی اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہے۔جو کچھ حکومت کی طرف سے ملتا ہے وہ ٹھیک آج ختم ہو جائے گا۔اس پر اس عیسائی عن نے کہا اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کے لیے فرشتے بھجوا دے گا۔یہ بات کرتے کرتے وہ باہر نکل رہی تھی کہ اس کی نظر جماعت احمدیہ کے وفد پر پڑی تو کہنے لگی ! لگتا ہے یہ فرشتے آگئے۔