سلسلہ احمدیہ — Page 343
343 سے بھی گاہے بگاہے ہو تا رہا جس کی وجہ سے اچانک اخبار کی ترسیل میں خلا پیدا ہونا عالمگیر قارئین کے لئے مزید اذیت کا موجب بنتا رہا۔یہ وہ پس منظر ہے جس نے بالآخر الفضل کی عالمگیر اشاعت کی ضرورت اور خواہش کو حقیقت کا روپ عطا کر دیا۔۔۔۔الفضل انٹرنیشنل بلا تاخہ ہفتہ وار جاری کرنے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا لیکن اس کا ایک نمونہ پہلے پرچہ کے طور پر احباب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔“ پیغام کے آخر میں حضور رحمہ اللہ نے دعا کی کہ : خدا کرے یہ اخبار نہ صرف جاری رہے بلکہ بیش از پیش ترقی کرتا ہوا ہفتہ وار کی بجائے روز نامہ میں تبدیل ہو جائے لیکن ابھی اس سفر میں بہت اہم مراحل اور بھی طے کرنے ہوں گے۔جماعت احمدیہ عالمگیر کو الفضل کا یہ نیا دور مبارک ہو" الفضل انٹرنیشنل کے پہلے مدیر اعلی مکرم چوہدری رشید احمد صاحب نمونہ کے اس شمارہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں: اس شمارہ کے شائع ہونے کے بعد ہمارا خیال تھا کہ ہم چند ہفتوں کے بعد ہی اس قابل ہو جائیں گے کہ افضل انٹرنیشنل کا با قاعدہ اجراء ہو سکے۔اس سلسلہ میں تمام ممکن تدابیر اختیار کی جارہی تھیں مگر باوجود کوشش کے بعض معاملات طول پکڑتے گئے اور وقت سرعت کے ساتھ نکلتا گیا۔حتی کہ دسمبر کا مہینہ آ گیا اور حضور انور نے تمام انتظامات کا جائزہ لے کر فرمایا کہ جنوری 1994 ء سے اس کی باقاعدہ اشاعت کا انتظام کریں۔اسی دوران ایک روح پرور واقعہ پیش آیا جس کا۔۔۔بیان ضروری ہے۔وہ یہ کہ 30 جولائی 1993ء کے پرچہ کی اشاعت کے بعد جہاں مختلف ممالک سے احباب کرام کے تہنیت کے پیغامات موصول ہوئے وہاں کینیڈا سے مکرم مولا نانسیم مہدی صاحب نے حضور پرنور کی خدمت میں ایک فیکس 25 اگست 1993ء کو روانہ کیا جس میں لکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود کے الہام ”دیکھو میرے دوستو! اخبار شائع ہو گیا‘ کے حروف ابجد